شمارهٔ 17
Toggle stanza 1ای تُرک! دلم غاشیه بر دوش تو شد
11
ای تُرک! دلم غاشیه بر دوش تو شد
جانم ز جهان واله و مدهوش تو شد
22
بر سیمِ بناگوش تو چون جملهٔ خلق،
در مینگرند، حلقه در گوش تو شد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

