Toggle stanza 1
ای تُرک! دلم غاشیه بر دوش تو شد
1

ای تُرک! دلم غاشیه بر دوش تو شد

جانم ز جهان واله و مدهوش تو شد

2

بر سیمِ بناگوش تو چون جملهٔ خلق،

در مینگرند، حلقه در گوش تو شد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…