شمارهٔ 81
Toggle stanza 1چون بیخبرم که چیست تقدیر مرا
11
چون بیخبرم که چیست تقدیر مرا
دیوانگی آورد به زنجیر مرا
22
چون کار به علّت نکنی با بد و نیک
ترکِ بد و نیک گیر و بپذیر مرا
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

