Toggle stanza 1
چون بیخبرم که چیست تقدیر مرا
1

چون بیخبرم که چیست تقدیر مرا

دیوانگی آورد به زنجیر مرا

2

چون کار به علّت نکنی با بد و نیک

ترکِ بد و نیک گیر و بپذیر مرا

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…