شمارهٔ 18
Toggle stanza 1ماتم زدگان عالم خاک هنوز
11
ماتم زدگان عالم خاک هنوز
می خاک شوند در غم خاک هنوز
22
چندان که تهی میشود این پشت زمین
پر می نشود این شکم خاک هنوز
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

