Toggle stanza 1
ما بحرِ بلا پیش گرفتیم و شدیم
1

ما بحرِ بلا پیش گرفتیم و شدیم

قربان گشتن کیش گرفتیم و شدیم

2

چون اشک به پای اوفتادیم به درد

چون شمع سرِ خویش گرفتیم و شدیم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…