شمارهٔ 51
Toggle stanza 1ما بحرِ بلا پیش گرفتیم و شدیم
11
ما بحرِ بلا پیش گرفتیم و شدیم
قربان گشتن کیش گرفتیم و شدیم
22
چون اشک به پای اوفتادیم به درد
چون شمع سرِ خویش گرفتیم و شدیم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

