باب
غزلیات
نظمیں
غزل شمارهٔ 51بحرفی می توان گفتن تمنای جهانی را
اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔
غزل شمارهٔ 52چند بروی خودکشی پردهٔ صبح و شام را
(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔
غزل شمارهٔ 53نفس شمار به پیچاک روزگار خودیم
میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔
غزل شمارهٔ 54به فغان نه لب گشودم که فغان اثر ندارد
میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔
غزل شمارهٔ 55ما که افتندهتر از پرتو ماه آمدهایم
(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔
غزل شمارهٔ 56ای خدای مهر و مه خاک پریشانی نگر
اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔

