Toggle stanza 1
درونِ سینهٔ ما سوزِ آرزو ز کجاست؟
1
درونِ سینهٔ ما سوزِ آرزو ز کجاست؟
سبو ز ماست ولی باده در سبو ز کجاست؟

ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔

The ardent longing in our hearts – where does it come from? Ours is the tumbler, but the wine within – where does it come from?

2
گرفتم اینکه جهان خاک و ما کفِ خاکیم
به ذره ذرهٔ ما دردِ جستجو ز کجاست؟

اس دنیا کا مادہ خاک ہے اور ہم بھی ایک مشت خاک (مٹی کی مٹھی) ہیں ۔ ہمارا جسم مادہ اشیاء کا بنا ہوا ہے ۔ لیکن ہمارے جسم میں جو دردِ جستجو پایا جاتا ہے وہ کہاں سے آیا ہےیہ تلاش و جستجو اسے کوئی نہ کوئی چیز ضرور اُکسا رہی ہے ۔

I know that this world is mere dust, and that we, too, are a handful of dust. But this pain of quest that runs through our being – where does it come from?

3
نگاهِ ما به گریبانِ کهکشان اُفتد
جنونِ ما ز کجا، شورِ های و هو ز کجاست؟

ہماری نگاہ کہکشاں کو تو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اپنے اندر کے جنون اور عشق کو دیکھنے سے قاصر ہے ۔ یہ نگاہِ ظاہری باطنی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتی ۔ کوئی مردِ کامل ہی منزل سلوک کا راستہ دکھا سکتا ہے ۔

Our glances reach the neckline of the Galaxy; this obsession of ours, this tumult and clamor – where does it come from?

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور