Toggle stanza 1
«عشق شور انگیز را هر جاده در کوی تو برد»
1

«عشق شور انگیز را هر جاده در کوی تو برد»

«بر تلاش خود چه مینا زد که ره سوی تو برد»

یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے ۔ اقبال اپنے عشق کی شوریدہ سری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس شور پیدا کرنے والے عشق کو ہر راستہ تیری گلی کی طرف لے گیا ۔ وہ اپنی تلاش کر کیا فخر کرتا کہ راستہ تو خود ہی اسے تیری گلی کی طرف لے گیا تھا ۔ سچا عشق اور سچی طلب ہی منزلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ عاشق کو اپنی تلاش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی کامیا بی اس کے محبوب کی نظرِ عنایت کی مرہونِ منت ہے ۔

Tumultuous Love where’er it rove unto Thy street is brought; what boasteth he who findeth Thee that for himself he sought?

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور