غزل شمارهٔ 1
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: ویتوبرد
صنف: غزل/قصیده/قطعه
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1«عشق شور انگیز را هر جاده در کوی تو برد»
11
«عشق شور انگیز را هر جاده در کوی تو برد»
«بر تلاش خود چه مینا زد که ره سوی تو برد»
یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے ۔ اقبال اپنے عشق کی شوریدہ سری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس شور پیدا کرنے والے عشق کو ہر راستہ تیری گلی کی طرف لے گیا ۔ وہ اپنی تلاش کر کیا فخر کرتا کہ راستہ تو خود ہی اسے تیری گلی کی طرف لے گیا تھا ۔ سچا عشق اور سچی طلب ہی منزلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ عاشق کو اپنی تلاش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی کامیا بی اس کے محبوب کی نظرِ عنایت کی مرہونِ منت ہے ۔
Tumultuous Love where’er it rove unto Thy street is brought; what boasteth he who findeth Thee that for himself he sought?
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

