Toggle stanza 1
عقل هم عشق است و از ذوق نگه بیگانه نیست
1

عقل هم عشق است و از ذوق نگه بیگانه نیست

لیکن این بیچاره را آن جرأت رندانه نیست

عقل بھی عشق کی مانند ہے اور وہ ذوقِ نظر سے انجان نہیں ہے ۔ لیکن اس بے چاری کے پاس وہ ہمت و دلیری نہیں جو عشق کو حاصل ہے ۔

Intellect is passion too, and it knows the joy to view, but the poor unfortunate dares not as the inebriate.

2

گرچه می دانم خیال منزل ایجاد من است

در سفر از پا نشستن همت مردانه نیست

اگرچہ یہ بات میرے علم میں ہے کہ منزل کا تصور میرا اپنا ایجاد کردہ ہے لیکن اس منزل خیال کی طرف سفر کرتے ہیں رہا میں تھک کر بیٹھ جانا مردانگی کے خلاف ہے ۔

Though I know the fantasy of the stage was shaped by me, yet it were a coward’s way on the journey to delay.

3

هر زمان یک تازه جولانگاه میخواهم ازو

تا جنون فرمای من گوید دگر ویرانه نیست

میں (اپنے خدا سے) ہر لمحہ ایک نئے میدانِ عمل کا متلاشی ہوں ۔ یہاں تک کہ مجھے جنوں بخشنے والا مجھے یہ کہہ دے اب تیرے جنوں کے لیے کوئی اور ویرانہ باقی نہیں ہے ۔

Every moment is my prayer that I may yet further fare, till my folly’s governor says there is no desert more.

4

با چنین زور جنون پاس گریبان داشتم

در جنون از خود نرفتن کار هر دیوانه نیست

ایسے شدید جنون کے زور کے باوجود میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا، گریبان کا لحاظ رکھا ۔ اور جنون کی ایسی کیفیت میں خود پر قابو رکھنا ہر کسی دیوانے کے بس کی بات نہیں ۔

In such frenzy of the soul still I do not yield control: every madman cannot boast that to self he is not lost!

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور