Toggle stanza 1
زمستان را سرآمد روزگاران
1

زمستان را سرآمد روزگاران

نواها زنده شد در شاخساران

موسم سرما ختم ہو گیا ہے اور درختوں کی شاخوں پر نئے گیت زندہ ہو گئے ہیں ۔

The days are ended of winter long; the branches quiver with living song.

2

گلان را رنگ و نم بخشد هواها

که می آید ز طرف جویباران

ہوائیں پھولوں کو نیا رنگ اور تازگی بخش رہی ہیں ۔ کیونکہ وہ نہروں کی طرف سے (تازہ دم ہو کر ) آ رہی ہیں ۔

The breeze in beauty arrays the rose as from the river it gently blows.

3

چراغ لاله اندر دشت و صحرا

شود روشن تر از باد بهاران

لالہ کے پھول جو چراغوں کی طرح روشن ہیں بیابان اور صحرا میں کھلے ہوئے ہیں ۔ اور بہار کی شگفتہ ہوا سے وہ اور بھی زیادہ سرخ و شاداب ہو رہے ہیں ۔

The tulip’s lantern in desert bare is fanned to brightness, by the spring air.

4

دلم افسرده تر در صحبت گل

گریزد این غزال از مرغزاران

ایسے موسم میں (جب چاروں طرف پھول کھلے ہوئے ہیں ) میرا دل ان پھولوں کی صحبت سے اور زیادہ افسردہ ہو گیا ہے ۔ یہ اس ہرن کی طرح ہے جو سبزہ زاروں سے بے نیاز ہے یعنی اسے بیابان پسند ہے ۔

Sad, mid the roses, my heart doth dwell, yea, from the meadow flees the gazelle;

5

دمی آسوده با درد و غم خویش

دمی نالان چو جوی کوهساران

میرے بے قرار دل کی یہ کیفیت ہے کہ کبھی تو اسے اپنے غم اور افسردگی میں کیف محسوس ہوتا ہے اور کبھی وہ پہاڑوں سے اترنے والی ندی کی طرح شور مچانا شروع کر دیتا ہے ۔

A little eases with grief and pain or like a bill-stream laments again.

6

ز بیم اینکه ذوقش کم نگردد

نگویم حال دل با رازداران

اس ڈر سے کہ میرے دل کا ذوق کہیں کم نہ ہو جائے ۔ میں اپنے دل کی حالت اپنے قریبی رازدار دوستوں سے بھی بیان نہیں کرتا ۔ کیونکہ راز آشکارا ہونے سے عشق کا کیف و سرور باقی نہیں رہتا ۔

Lest my heart’s passion may softer grow, not to the trusty I’ll tell my woe.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور