رباعی شمارهٔ 59

اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں

The Tulip of Sinai - 59

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: الاست

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
Toggle stanza 1
من ای دانشوران در پیچ و تابم
1
من ای دانشوران در پیچ و تابم
خرد را فهم این معنی محال است

اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں —

خرد کے لیے اس نکتہ کو سمجھنا محال ہے۔

Ye men of learning, I am in a maze, the mind this meaning cannot understand:

2
چسان در مشت خاکی تن زند دل
که دل دشت غزالان خیال است

مٹھی بھر مٹی میں دل کیسے دھڑکتا ہے —

کیونکہ دل تو افکار کی ہرنوں کا مرغزار ہے (افکار لطیف ہیں ، بدن کثیف)۔

How in a hand of Dust there beats a heart wherein gazelles of Fancy rove the land.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور