بخش 34 - حور و شاعر در جواب نظم گوته موسوم به حور و شاعر
شاعر
The Houri and the Poet
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)
The Houri:
Toggle stanza 1نه به باده میل داری نه به من نظر گشائی
نہ تو شراب سے میل رکھتا ہے نہ میری طرف آنکھ اٹھا کے دیکھتا ہے ۔ حیرت تو یہ ہے کہ تو دوستی کے طور طریق بھی نہیں جانتا ہے ۔
You are not attracted to wine, and you do not look at me: How surprising that you do not know the art of mixing!
ساری کی ساری ایک تلا ش کی مہک سب کی سب ایک آرزو کی لپک ہے تو جو نفس گداز کرتا ہے وہ ہمہ سوز آرزو ہے ۔ ہر آہ جو تو بھرتا ہے ہر غزل جو تو الاپتا ہے ۔
It is but a tune of quest, a flame of desire, your sigh, your song.
تو نے ایک نغمے سے کیا دلکش عالم ایجاد کر دیا کہ جنت بھی مجھے نظر بندی کا عمل دکھائی دیتی ہے(طلسمی شے نظر آتی ہے) ۔
With your song you have made such a lovely world that paradise itself appears to me to be some conjurer’s trick.
The Poet:
Toggle stanza 2دل رهروان فریبی به کلام نیش داری
تو دل میں کھب جانے والی (دل نشین) باتوں سے مسافروں کا دل گرماتی ہے مگر یہ ہے کہ ان کی لذت کانٹے کی خلش تک نہیں پہنچتی ۔
You charm travelers’ hearts with pointed talk except that, in the pleasure it gives, one cannot compare it with the sharp thorn.
میں کیا کروں کہ میری فطرت مجھے ایک مقام پر ٹکنے نہیں دیتی ۔ چمن میں صبا کی طرح میں ایک بے چین دل رکھتا ہوں ۔
What can I do, for by nature I am not someone who can live for long in one place! My heart is restless, like the west wind in a field of tulips.
جب میری نظر کسی حسین محبوب پر ٹھہرتی ہے اس گھڑی میرا دل اس سے بڑھ کر کسی حسین کے لیے تڑپنے لگتا ہے ۔
The moment my eyes light upon a pretty face, my heart begins to long for one prettier still.
شرر سے ستارے کی جستجو کو نکلتا ہوں اور ستارے سے آفتاب کی تلاش میں ۔ میں کہیں رکنے کا خیال نہیں رکھتا کیونکہ ایک جگہ ٹھہرنا میرے لیے موت ہے ۔
In the spark I seek a star, in the star a sun: I have no wish for a destination, for if I stop I die.
جب ایک بہار کی شراب کا پیالہ پی کر اٹھتا ہوں تو نئی بہار کی آرزو میں ایک نئی غزل گانے لگتا ہوں ۔
When I get up, having drunk a cup of wine matured by one spring, I begin to sing another verse, and long for yet another spring.
میں اس کی انتہا چاہتا ہوں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ ایک بے قرار نگاہ کے ساتھ ایک امید رکھنے والے دل کے ساتھ ۔
I seek the end of what has no end – with a restless eye, and hope in my heart.
ایسی بہشت جاوداں میں عاشقوں کا دل مر جاتا ہے نہ کوئی درد مند صدا، نہ کوئی غم نہ کوئی غمگسار نوٹ: اقبال کا فلسفہ یہ ہے کہ حیات تسلسل پر موقوف ہے ۔ بہشت میں سوختن کا نام و نشان نہیں ہے بلکہ خلش آرزو اور انتظار بھی ناپید ہے ۔ وہاں تو دائمی سرور اور سکون ہے جبکہ عاشق کی زندگی سراسر تپش اور سراپا خلش ہے ۔ وہ بہشت میں کس طرح خوش رہ سکتا ہے جہان نہ تو نواے درد سنائی دیتی ہے نہ کہیں عشق و محبت کا ہنگامہ برپا ہے اور نہ کسی غمگسار کا کوئی نشان نظر آتاہے ۔
The lover’s heart dies in an eternal heaven – in it no afflicted soul cries, there is no sorrow, and no one to drive sorrow away!
زمین

