رباعی شمارهٔ 138

میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں

I do not know the instrument or key

Toggle stanza 1
مرا از پردهٔ ساز آگهی نیست
1
مرا از پردهٔ ساز آگهی نیست
ولی دانم نوای زندگی چیست

میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں —

مگر میں یہ جانتا ہوں کہ نغمہ حیات کیا ہے

I do not know the instrument or key —

Yet well I recognize Life’s melody.

2
سرودم آنچنان در شاخساران
گل از مرغ چمن پرسد که این کیست؟

میں نے درختوں پر بیٹھ کر اس طرح گیت گایا —

کہ پھول، باغ کے پرندے سے پوچھنے لگا کہ یہ کون ہے؟

So sang I in the brambles —

That the rose asked of the thrush, ‘What caroller is he?’

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور