رباعی شمارهٔ 115
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے
The world is a symphony of aspirations and desires
Toggle stanza 1جهان یک نغمه زار آرزوئی
11
جهان یک نغمه زار آرزوئی
بم و زیرش ز تار آرزوئی
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے —
اس جہان کا زیر و بم آرزو ہی کی تار سے وابستہ ہے۔
The world is a symphony of aspirations and desires —
Its bass and treble tuned by aspirations and desires.
22
به چشمم هر چه هست و بود و باشد
دمی از روزگار آرزوئی
جو کچھ ہے، تھا یا ہو گا (حال و ماضی و مستقبل) وہ میری نگاہ میں ہے —
اور یہ تمام، زمانِ آرزو ہی کا ایک لمحہ ہے۔
To my eyes, whatever is, was, or will be —
Is but a moment in the time of aspirations and desires.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

