رباعی شمارهٔ 115

یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے

The world is a symphony of aspirations and desires

Toggle stanza 1
جهان یک نغمه زار آرزوئی
1
جهان یک نغمه زار آرزوئی
بم و زیرش ز تار آرزوئی

یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے —

اس جہان کا زیر و بم آرزو ہی کی تار سے وابستہ ہے۔

The world is a symphony of aspirations and desires —

Its bass and treble tuned by aspirations and desires.

2
به چشمم هر چه هست و بود و باشد
دمی از روزگار آرزوئی

جو کچھ ہے، تھا یا ہو گا (حال و ماضی و مستقبل) وہ میری نگاہ میں ہے —

اور یہ تمام، زمانِ آرزو ہی کا ایک لمحہ ہے۔

To my eyes, whatever is, was, or will be —

Is but a moment in the time of aspirations and desires.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور