Toggle stanza 1
از سستی عناصر انسان دلش تپید
1

از سستی عناصر انسان دلش تپید

فکر حکیم پیکر محکم‌تر آفرید

انسان کی بناوٹ کے بودے پن سے اس کا دل تڑپا ۔ اس فلسفی کی فکر نے ایک بہت پائدار پیکر ایجاد کیا (انسانی برتری کا تصور دیا) ۔

The heart of the philosopher bled at man’s sinews laxity so his thought fashioned a new cast of man.

2

افکند در فرنگ صد آشوب تازه‌ای

دیوانه‌ای به کارگه شیشه‌گر رسید

اس نے مغرب میں سینکڑوں نئے ہنگامے کھڑے کر دیے (یوں لگتا ہے جیسے) ایک دیوانہ شیشہ گری کے کارخانے میں داخل ہو گیا ہو ۔

He raised a fresh storm in the West \- it was as if a lunatic had crashed into a glassware factory.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور