Toggle stanza 1
بتان تازه تراشیده‌ای دریغ از تو
1

بتان تازه تراشیده‌ای دریغ از تو

درون خویش نگاه دیده‌ای دریغ از تو

تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔

O you have carved new images, Alas! You have not dug into your inner self, Alas!

2

چنان گداخته‌ای از حرارت افرنگ

ز چشم خویش تراویده‌ای دریغ از تو

تو فرنگ کی حرارت سے ایسا پگھلا اپنی آنکھ سے آنسو بن کر ٹپک پڑا ۔ وائے ہو تجھ پر (خود اپنی نظر میں گرگیا) احساس کمتری کا شکار ہو چکا ہے ۔

You have been melted so by the heat of the West that you have dropped from your own eyes just like a tear. Alas!

3

به کوچه‌ای که دهد خاک را بهای بلند

به نیم غمزه نیرزیده‌ای دریغ از تو

اس کوچے (فرنگ) میں جہاں مٹی بھی او نچا مول پاتی ہے تو آدھی جھلک کے بھی لائق نہ ٹھہرا ۔

In a street where mere common dust gains preciousness You did not prove that you were even worth an amorous half-glance. Alas!

4

گرفتم اینکه کتاب خرد فروخواندی

حدیث شوق نفهمیده‌ای دریغ از تو

میں نے یہ مانا کہ تو عقل کی ساری کتاب پڑھ چکا ہے (تو نے انگریزوں کے قائم کردہ کالجوں میں فلسفہ اور سائنس کا بہت مطالعہ کیا ہے) ۔ لیکن عشق کی بات تو نے نہ سمجھی (تو نے عشق رسول کا فلسفہ بالکل نہیں سمجھا ) تجھ پر افسوس ہے ۔

I take it that you have read through the book of wisdom, but You have not understood the meaning of Love’s narrative. Alas!

5

طواف کعبه زدی گرد دیر گردیدی

نگه به خویش نپیچیده‌ای دریغ از تو

تو نے کعبے کا طواف کیا مندر کے پھیرے لگائے مگر اپنی طرف نگاہ نہ کی افسوس تجھ پر (تو نے کبھی اپنی خودی کی تربیت کی طرف توجہ نہ کی ۔ اے مسلمان تو نے کعبہ کا طواف بھی کیا اور واپس آ کر پھر انگریز کی چوکھٹ پر سر جھکا دیا تو ساری عمر اندھا ہی رہا) ۔

You went around the Ka‘bah, and you went around the idol-house. But you did not engage your vision with yourself. Alas!

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور