بخش 9 - در اسرار شریعت

اسرار شریعت کے بیان میں

The Essence Of The Shari’ah

بند 1
Toggle stanza 1
نکته ها از پیر روم آموختم
1
نکته ها از پیر روم آموختم
خویش را در حرف او واسوختم

میں نے پیر رومی سے کئی نکات سیکھے ہیں —

اور اپنے آپ کو ان کے الفاظ میں جلا ڈالا ہے۔

From the Pir of Rum, I learned many subtle truths —

In the fire of his words I dissolved my very self.

2
مال را گر بهر دین باشی حمول
«نعم مال صالح» گوید رسول (رومی)

اگر تو مال کو دین کے لیے رکھتا ہے تو —

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ایسا مال صالح ہے۔ (رومی)۔

If you bear wealth in service of the faith —

The Messenger (PBUH) has said that such wealth is truly excellent. (Rumi).

رومی
3
گر نداری اندر این حکمت نظر
تو غلام و خواجهٔ تو سیم و زر

لیکن اگر تیری نظر اس حکمت پر نہیں ہے —

پھر تو ایک غلام ہے اور دولت تیری آقا ہے۔

If you have no insight into this wisdom —

You are the slave and your master is silver and gold.

4
از تهی دستان گشاد امتان
از چنین منعم فساد امتان

تہی دست افراد ہی امتوں کے کام سنوارتے ہیں —

سیم و زر کے غلام دولتمند، قوموں میں فساد کا باعث بنتے ہیں۔

By the empty-handed, the nations find relief —

By the enslaved rich man, the nations fall into corruption.

5
جدت اندر چشم او خوار است و بس
کهنگی را او خریدار است و بس

(پیسے کے غلام دولتمند) کی نظر میں جدت محض ایک ذلت ہے —

وہ تو صرف قدامت کا خریدار ہے۔

In the eyes of the money-bound rich, all change is only shame —

He barters solely for what is ancient and worn with age.

6
در نگاهش ناصواب آمد صواب
ترسد از هنگامه های انقلاب

اس کی نظر میں ناخوب، خوب ہوجاتا ہے —

وہ انقلاب کے ہنگاموں سے ڈرتا ہے۔

In his dimming sight, the ugly passes off as fair —

He trembles at the very whisper of revolt.

7
خواجه نان بندهٔ مزدور خورد
آبروی دختر مزدور برد

ایسا آقا اپنے مزدور غلام کی روٹی کھا جاتا ہے —

اور اس کی بیٹی کی آبرو لوٹ لیتا ہے۔

Such a master devours the bread of his burdened servant —

And strips the honor from the servant’s daughter.

8
در حضورش بنده می نالد چو نی
بر لب او ناله های پی به پی

اس کے سامنے غلام بانسری کی طرح فریاد کرتا ہے —

اور اس کے لبوں پر متواتر ہائے ہائے کی فریاد رہتی ہے۔

Before him the slave laments like a reed-flute —

And on his lips a ceaseless cry of woe is strung.

9
نی بجامش باده و نی در سبوست
کاخها تعمیر کرد و خود بکوست

نہ مزدور کے جام میں شراب ہے نہ صراحی میں —

وہ (دوسروں کے لیے) محلات تعمیر کرتا ہے لیکن خود گلی کوچے میں پڑا ہے۔

No wine crowns the laborer’s cup, nor fills his jar —

He builds palaces for others, yet himself lies spent in dust and streets.

10
ایخوش آن منعم که چون درویش زیست
در چنین عصری خدا اندیش زیست

مبارک ہے وہ دولتمند جو درویش کی مانند زندگی بسر کرتا ہے —

جو اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے۔

Blessed is the wealthy one who lives as a wandering dervish —

Who even in this age keeps God alive within his heart.

بند 2
Toggle stanza 2
تا ندانی نکتهٔ اکل حلال
11
تا ندانی نکتهٔ اکل حلال
بر جماعت زیستن گردد وبال

جب تک تو حلال کمائی کا نکتہ نہیں سمجھ پائے گا —

تیری زندگی معاشرے کے لیے وبال ہوگی۔

Until you grasp the secret of the halal and pure earning —

Your life will be a burden and a plague upon the community.

12
آه یورپ زین مقام آگاه نیست
چشم او «ینظر بنور الله» نیست

افسوس یورپ اس مقام سے آگاہی نہیں رکھتا —

اس کی آنکھ اللہ تعالیٰ کے نور سے نہیں دیکھتی۔

Alas, the West is blind to this exalted station —

Its eye is not an eye that looks with the light of God.

13
او نداند از حلال و از حرام
حکمتش خام است و کارش ناتمام

وہ حلال و حرام میں امتیاز نہیں کرتا —

اس کا فلسفہ خام ہے اور اس کا کام نامکمل۔

It draws no line between the halal and the haram —

Its wisdom is unripe and work unfinished.

14
امتی بر امتی دیگر چرد
دانه این می کارد آن حاصل برد

(وہاں) ایک قوم دوسری قوم پر پلتی ہے —

دانہ یہ کاشت کرتی ہے، حاصل وہ لے جاتی ہے۔

One nation is left to graze upon another —

This one sows the seed and that one carries off the harvest.

15
از ضعیفان نان ربودن حکمتست
از تن شان جان ربودن حکمتست

غریبوں سے روٹی چھین لینا ان کی ڈپلومیسی ہے —

ان کے بدن سے جان نکال لینا ان کی ڈپلومیسی ہے۔

To snatch bread from the poor is called their diplomacy —

To drain the life from their bodies is likewise named diplomacy.

16
شیوهٔ تهذیب نو آدم دری است
پردهٔ آدم دری سوداگری است

نئی تہذیب کا شیوہ انسانوں کی چیر پھاڑ ہے —

اور یہ آدم خوری تجارت کے پردے میں کی جا رہی ہے۔

The habit of this new civilization is to rend human beings apart —

And this man-eating feast hides itself beneath the veil of trade.

17
این بنوک این فکر چالاک یهود
نور حق از سینهٔ آدم ربود

یہ بینک، یہ تو یہودیوں کی عیار سوچ کا نتیجہ ہیں —

انسان کے سینے سے اللہ تعالیٰ کا نور سلب کر لیتے ہیں۔

These banks are born of the sly and scheming Jews —

And have stolen the light of Truth from the breast of man.

18
تا ته و بالا نگردد این نظام
دانش و تهذیب و دین ، سودای خام

جب تک یہ سودی نظام تہ و بالا نہ ہو —

دانش، تہذیب اور دین کی باتیں بے سود ہیں۔

Until this rigged usurious order is overturned —

All talk of wisdom, culture and faith is hollow wind.

بند 3
Toggle stanza 3
آدمی اندر جهان خیر و شر
19
آدمی اندر جهان خیر و شر
کم شناسد نفع خود را از ضرر

آدمی اس خیر و شر کے جہان میں —

کم ہی اپنے نفع و نقصان میں تمیز کر پاتا ہے۔

In this world where good and evil intertwine —

Man seldom discerns what harms him and what heals.

20
کس نداند زشت و خوب کار چیست
جادهٔ هموار و ناهموار چیست

کوئی نہیں جانتا کہ اچھائی اور برائی کیا ہے —

صراط مستقیم کون سا ہے اور ٹیڑھا راستہ کون سا۔

No one truly knows what goodness is and what is evil —

Which path is straight and which is crooked.

21
شرع بر خیزد ز اعماق حیات
روشن از نورش ظلام کائنات

شرع، حیات کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے —

اور اس کے نور سے کائنات کی تاریکیاں دور ہو جاتی ہیں۔

Shari'ah rises from the depth of life itself —

And by its radiance the darkness of the cosmos flees.

22
گر جهان داند حرامش را حرام
تا قیامت پخته ماند این نظام

اگر لوگ شرع کی حرام کردہ اشیاء کو حرام سمجھیں —

تو یہ نظام قیامت تک پختہ رہتا ہے۔

If people would deem forbidden what the Shari'ah has banned —

This order would stand firm, enduring to the end of time.

23
نیست این کار فقیهان ای پسر
با نگاهی دیگری او را نگر

بیٹے! شرع کا معاملہ فقیہوں کے بس کی بات نہیں ہے —

اسے تو کسی دوسری نگاہ سے دیکھ۔

My son, the matter of Shari'ah is not the jurist’s toy —

Behold it instead with an altogether different sight.

24
حکمش از عدلست و تسلیم و رضاست
بیخ او اندر ضمیر مصطفی است

شریعت کا حکم سراسر عدل، تسلیم اور رضا ہے —

جس کا بیج مصطفی ﷺ کے قلب مبارک میں پیوست ہے۔

The decree of Shari'ah is pure justice and submission to Divine Will —

Its root is planted deep in the heart of Mustafa (PBUH).

25
از فراق است آرزوها سینه تاب
تو نمانی چون شود او بی حجاب

ہجر ہی سے آرزوئیں سینہ سوز بنتی ہیں —

لیکن اگر وہ ذات بے حجاب ہو جائے پھر تو باقی نہ رہے گا۔

It is separation that turns desires into a fire in the breast —

Yet if the Divine cast off His veil, nothing of you would remain.

26
از جدائی گرچه جان آید بلب
وصل او کم جو رضای او طلب

اگرچہ جدائی جان کو لبوں تک لے آتی ہے —

وصل کی طلب کم رکھ اس کی رضا ہی کی جستجو کر۔

Though separation brings the soul up to the very lips —

Seek His union less, seek instead submission to His will.

27
مصطفی داد از رضای او خبر
نیست در احکام دین چیزی دگر

حضور اکرم ﷺ نے ہمیں اس کی رضا کی خبر دی —

دین کے احکام میں اس کے سوا کوئی بات نہیں۔

Mustafa (PBUH) communicated His will to us —

The injunctions of religion consist of nothing else.

28
تخت جم پوشیده زیر بوریاست
فقر و شاهی از مقامات رضاست

جمشید کا تخت بوریے کے نیچے پوشیدہ ہے —

فقر و شاہی، یہ سب رضا ہی کے مقامات ہیں۔

Jamshid’s throne lies hidden beneath the Faqir’s reed mat —

Both Faqr and kingship are stations within the realm of His contentment.

29
حکم سلطان گیر و از حکمش منال
روز میدان نیست روز قیل و قال

پادشاہ حقیقی کا حکم بجا لا، اور شکایت نہ کر —

میدان جنگ قیل و قال کی جگہ نہیں ہے۔

Carry out the command of the true King, and do not complain —

The field of battle is no place for idle argument.

30
تا توانی گردن از حکمش مپیچ
تا نپیچد گردن از حکم تو هیچ

جہاں تک ہو سکے اس کی حکم عدولی نہ کر —

تا کہ کوئی اور تیری نافرمانی نہ کر سکے۔

As far as you can, do not turn your neck away from His command —

So that no neck may ever turn away from your command.

31
از شریعت احسن التقویم شو
وارث ایمان ابراهیم شو

احکام شریعت کی پابندی کر کے احسن التقویم کا مصداق بن —

اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا وارث بن۔

Through the Shari'ah, become the best-formed of creation —

Become the true heir to the faith of Abraham (A.S).

بند 4
Toggle stanza 4
پس طریقت چیست ای والاصفات
32
پس طریقت چیست ای والاصفات
شرع را دیدن به اعماق حیات

اے اعلیٰ خوبیوں کے مالک! طریقت کیا ہے؟ —

شریعت کو زندگی کی گہرائیوں سے دیکھنا۔

O you adorned with noble traits, what is Tariqah? —

To behold the Shari'ah through the abyssal depths of life.

33
فاش میخواهی اگر اسرار دین
جز به اعماق ضمیر خود مبین

اگر تو دین کے اسرار فاش دیکھنا چاہتا ہے —

تو اسے اپنے ضمیر کی گہرائیوں کے علاوہ اور کہیں نہ دیکھ۔

If you would like to see religion’s hidden mysteries laid bare —

Look nowhere but into the deepest chambers of your own soul.

34
گر نبینی ، دین تو مجبوری است
اینچنین دین از خدا مهجوری است

اگر تو اس طرح نہیں دیکھے گا تو تیرا دین مجبوری کا دین ہوگا —

اور ایسا دین اللہ تعالیٰ سے دور کرتا ہے۔

If you will not look in this way, your faith will be of compulsion —

And such a faith will only drive you far from God.

35
بنده تا حق را نبیند آشکار
بر نمی آید ز جبر و اختیار

جب تک بندہ، حق کو آشکار نہ دیکھے —

وہ جبر و قدر کے چکر سے باہر نہیں نکل سکتا۔

Until the servant beholds the God fully manifest —

He cannot rise higher than (the polarity of) free-will and determinism.

36
تو یکی در فطرت خود غوطه زن
مرد حق شو بر ظن و تخمین متن

تو ذرا اپنی فطرت میں غوطہ زن ہو —

مردِ حق بن اور اپنے ظن و تخمین پر نہ اِترا۔

So plunge a while into the ocean of your inner-nature —

Become a man of truth and do not strut in guess and conjecture.

37
تا ببینی زشت و خوب کار چیست
اندر این نه پردهٔ اسرار چیست

پھر تو دیکھ لے گا کہ اعمال کی اچھائی اور برائی کیا ہے —

اور اسرار کے ان نو پردوں (کائنات) کے اندر کیا ہے۔

Then you shall see what goodness and what evil dwell in deeds —

And what lies veiled within these ninefold curtains of the world.

38
هر که از سر نبی گیرد نصیب
هم به جبریل امین گردد قریب

جو شخص نبی کریم ﷺ کے راز (شریعت) سے حصّہ پاتا ہے —

وہ جبریل امین (علیہ السلام) کے بھی قریب ہو جاتا ہے۔

Whoever takes a portion from the Prophet’s secrets (of the Shari'ah) —

Draws near to Gabriel The trustworthy (A.S), in rank.

39
ای که می نازی به قرآن عظیم
تا کجا در حجره می باشی مقیم

(اے مسلمان!) تو جو قرآنِ عظیم پر فخر کرتا ہے —

کب تک حجرہ نشین رہے گا؟

O Muslim who takes pride in the majestic Qur’an —

How long will you sit cloistered in your cell?

40
در جهان اسرار دین را فاش کن
نکته شرع مبین را فاش کن

(باہر نکل اور) اس جہان میں دین کا راز فاش کر —

شرعِ مبین کا نکتہ فاش کر۔

Step forth and unveil religion’s secret in this world —

Lay bare the subtle point of the clear-shining Shari'ah.

41
کس نگردد در جهان محتاج کس
نکته شرع مبین این است و بس

دنیا میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا محتاج نہ رہے —

شرع مبین کا نکتہ یہی ہے اور بس یہی ہے۔

Let no human in this world be shackled to another’s chains —

This is the single point of the Shari'ah, and nothing more.

42
مکتب و ملا سخنها ساختند
مؤمنان این نکته را نشناختند

مکتب اور ملا محض باتیں بناتے ہیں —

مومنین اس (اہم) نکتے کو سمجھ نہ سکے۔

Educational institutes and clerics weave mere webs of talk —

The faithful could not grasp this vital point.

43
زنده قومی بود از تأویل مرد
آتش او در ضمیر او فسرد

مسلمان ایک زندہ قوم تھے، تاویلوں نے انہیں موت سے ہمکنار کر دیا —

(جس سے) ان کے ضمیر کے اندر کی آگ بجھ گئی۔

Once a living nation, but died through its false interpretations —

Its inner fire was extinguished within its own heart.

44
صوفیان با صفا را دیده ام
شیخ مکتب را نکو سنجیده ام

میں نے صوفیانِ باصفا کو دیکھا ہے —

اور علمائے مدارس کو بھی خوب پرکھا ہے۔

I have seen Sufis of pure and shining heart —

I have closely weighed the shaykh of Madrassah.

45
عصر من پیغمبری هم آفرید
آنکه در قرآن بغیر از خود ندید

میرے دور نے تو ایک نام نہاد پیغمبر (مرزا غلام احمد) کو بھی جنم دیا ہے —

وہ جسے قرآن کریم میں اپنی ذات کے سوا اور کچھ نظر ہی نہ آیا۔

My age even birthed a claimant to prophethood (Mirza Ghulam Ahmad) —

Who in the noble Qur’an could see nothing but his own self.

46
هر یکی دانای قرآن و خبر
در شریعت کم سواد و کم نظر

یہ سب قرآن و حدیث کے عالم ہونے کے دعویدار ہیں —

مگر شریعت سے بے بہرہ اور اس کے راز دیکھنے سے بے بصر۔

All of them parade as masters of Qur’an and prophetic word —

Yet they are starved of the Shari'ah and blind to all its secrets.

47
عقل و نقل افتاده در بند هوس
منبرشان منبر کاک است و بس

(ان کی) عقل اور نقل دونوں ہوس کے بند میں بندھی ہوئی ہے —

ان کے منبر کی حیثیت محض روٹی کی تپائی ہے۔

Their reason and their learning are both shackled by desire —

Their pulpit has become a lowly stool for bread.

48
زین کلیمان نیست امید گشود
آستین ها بی ید بیضا چه سود

ان 'کلیموں' سے کوئی امید نہیں کہ وہ قوم کے حالات درست کر سکیں —

جب ان کی آستینیں ہی ید بیضا سے محروم ہیں تو پھر کیا فائدہ؟

From such self-styled men of Moses, there is no hope of a nation’s cure —

For when their sleeves hold no white hand of wonder, what use are they at all?

49
کار اقوام و ملل ناید درست
از عمل بنما که حق در دست تست

قوموں اور ملتوں کے کام اس طرح نہیں سنورتے —

تو عمل کر کے دکھا کہ حق تیرے ہاتھ میں ہے۔

The affairs of peoples and nations will not be set right this way —

Show through your deeds that the Truth is held in your hand.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور