بخش 3 - خطاب به مهر عالمتاب

جہاں کو منور کرنے والے سورج سے خطاب

Address To The World-illuminating Sun

Toggle stanza 1
ای امیر خاور ای مهر منیر
1
ای امیر خاور ای مهر منیر
می کنی هر ذره را روشن ضمیر

اے آسمان کے شہزادے! اے آفتاب درخشاں! —

تو ہر ذرہ کے اندرون کو چمکا دیتا ہے۔

O prince of the heavens! O radiant sun! —

You illuminate the depths of every particle, one by one.

2
از تو این سوز و سرور اندر وجود
از تو هر پوشیده را ذوق نمود

تیری وجہ سے وجود کائنات میں سوز و سرور ہے —

تیری وجہ سے ہر پوشیدہ کے اندر اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا شوق ہے۔

It is through you that existence burns with fervor and delight —

Through you, every hidden thing longs to reveal its flight.

3
می رود روشنتر از دست کلیم
زورق زرین تو در جوی سیم

تیری زریں کشتی چاندی کے دریا میں چلتی ہوئی —

دست کلیم سے بھی زیادہ روشن (نظر آتی) ہے۔

Your golden vessel glides through streams of silver glow —

Brighter than the hand of Moses does it show.

4
پرتو تو ماه را مهتاب داد
لعل را اندر دل سنگ آب داد

تیرے پرتو نے چاند کو چاندنی عطا کی —

اور لعل کو پتھر کے اندر آب و تاب بخشی۔

Your radiance bestowed the moon its gentle glow —

And gave brilliance to the ruby within the stone's hollow.

5
لاله را سوز درون از فیض تست
در رگ او موج خون از فیض تست

تیرے فیض سے گل لالہ کو سوز دروں ملا —

اور اس کی رگ میں موج خون دوڑی۔

The tulip’s burning core is your gracious art —

Its veins surge with the blood your blessings impart.

6
نرگسان صد پرده را بر می درد
تا نصیبی از شعاع تو برد

نرگس نے سینکڑوں پردے پھاڑ دیے —

تاکہ تیری شعاع سے نور پا سکے۔

The narcissus tears through a hundred veils apart —

To claim a share of the light your rays impart.

7
خوش بیا صبح مراد آورده ئی
هر شجر را نخل سینا کرده ئی

تیرا آنا مبارک ہو، تو میری صبح لایا ہے —

تو نے ہر درخت کو درخت طور بنا دیا ہے۔

Welcome, O bearer of the morning of my desire —

You have turned every tree into Sinai's fire.

8
تو فروغ صبح و من پایان روز
در ضمیر من چراغی بر فروز

تو صبح کی روشنی ہے اور میں آخر روز ہوں —

میرے ضمیر کے اندر (بھی) چراغ روشن کر دے۔

You are the light of the dawn, and I the day's end —

Ignite a lamp within my soul to mend.

9
تیره خاکم را سراپا نور کن
در تجلی های خود مستور کن

میری تاریک خاک کو سراپا نور بنا دے —

مجھے اپنی تجلیات میں چھپا لے۔

Turn my darkened dust into luminous grace —

Enshroud me within your resplendent embrace.

10
تا بروز آرم شب افکار شرق
بر فروزم سینهٔ احرار شرق

تاکہ میں مشرق کے افکار کی رات کو دن میں تبدیل کر دوں —

تاکہ میں مشرق کے احرار کا سینہ چمکا دوں۔

That I may turn the night of Eastern thought to the day —

And brighten the hearts of East’s free souls along the way.

11
از نوائی پخته سازم خام را
گردش دیگر دهم ایام را

تاکہ میں اپنی نوا سے ہر خام کو پختہ کر دوں—

اور ایّام کے دور کو بدل دوں۔

That I may, with my melody, refine the raw —

And set the course of time to a new draw.

12
فکر شرق آزاد گردد از فرنگ
از سرود من بگیرد آب و رنگ

تاکہ مشرق کی فکر مغرب سے آزاد ہو جائے—

اور میری لے سے آب و رنگ لے۔

That Eastern thought may break from the West’s control —

And take its hue and essence from my soul.

13
زندگی از گرمی ذکر است و بس
حریت از عفت فکر است و بس

زندگی تو صرف اللہ کے ذکر کی گرمی سے ہے اور بس —

آزادی تو صرف فکر کی پاکیزگی کا نام ہے اور بس۔

Life derives its joy from the warmth of Zikr alone —

Freedom lies in the purity of thoughts, its throne.

14
چون شود اندیشهٔ قومی خراب
ناسره گردد بدستش سیم ناب

جب کسی قوم کی سوچ خراب ہو جاتی ہے—

تو اس کے ہاتھ میں خالص چاندی بھی کھوٹا سکّہ بن جاتی ہے۔

When a nation’s thinking begins to decay —

Pure silver in its hands turns to counterfeit clay.

15
میرد اندر سینه اش قلب سلیم
در نگاه او کج آید مستقیم

اس کے سینہ میں قلب سلیم مر جاتا ہے —

اسے سیدھی راہ کج دیکھائی دیتی ہے۔

Within its breast, the pure heart meets its demise —

What is straight appears crooked in its eyes.

16
بر کران از حرب و ضرب کائنات
چشم او اندر سکون بیند حیات

وہ کائنات کے ہنگاموں سے ایک طرف ہو کے بیٹھ جاتی ہے —

اس کی نگاہ سکوں ہی میں زندگی دیکھتی ہے۔

Far from the clash and tumult of creation's strife —

His gaze perceives in stillness the essence of life.

17
موج از دریاش کم گردد بلند
گوهر او چون خزف نا ارجمند

اس کے دریا ئے (حیات) سے کوئی موج نہیں اٹھی —

اس کا گوہر بھی پتھر کے ٹکڑے کی مانند بے قیمت ہو جاتا ہے۔

No wave rises from his ocean’s deep tide —

His gem, like a stone, loses value and pride.

18
پس نخستین بایدش تطهیر فکر
بعد از آن آسان شود تعمیر فکر

اس لیے سب سے پہلے فکر کی تطہیر کرنی چاہیے —

اس کے بعد فکر کی تعمیر آسان ہو جاتی ہے۔

Thus, the cleansing of thought should first take its place —

For only then can its rebuilding embrace.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور