بخش 4 - به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی

بند 1
Toggle stanza 1
به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی
1

به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی

فقیهش بی‌یقینی، کم‌سوادی

میں تجھ سے اس قوم کی بھلائی چاہتا ہوں جس کے فقیہہ بے یقین اور کم نظر ہیں ۔

I wish for help from You for a people whose religious lawyers lack certitude and knowledge;

2

بسی نادیدنی را دیده‌ام من

«مرا ای کاشکی مادر نزادی»

میں نے بہت سے ناقابل دید باتیں دیکھی ہیں ۔ کاش کی میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا ۔ (یہ خراب حالات دیکھنے کے لیے میں دنیا میں نہ آتا) ۔

I have seen many unworthy events, would that I had not been!

بند 2
Toggle stanza 2
نگاهِ تو، عتاب‌آلود تا چند؟
3

نگاهِ تو، عتاب‌آلود تا چند؟

بتان حاضر و موجود تا چند؟

کب تک آپ کی نگاہ غضب آلود رہے گی ۔ کب تک حاضر اور موجود کے بت موجود رہیں گے ۔

How long you look so wrathfully at me? how long those idols of now and here?

4

درین بتخانه، اولادِ براهیم

نمک‌پروردهٔ نمرود تا چند؟

دنیا کے اس بت کدہ میں کب تک حضرت ابراہیم کی اولاد نمرود کی غلامی کرتی رہے گی ۔

how long the progeny of Abraham be faithful to Nimrod’s association in this idol temple?

بند 3
Toggle stanza 3
سرود رفته باز آید که ناید؟
5

سرود رفته باز آید که ناید؟

نسیمی از حجاز آید که ناید؟

جو سرود چلا گیا پھر آتا ہے یا نہیں آتا ۔ عرب کے خطہ حجاز مقدس سے پھر ٹھنڈی ہوا آتی ہے یا نہیں آتی

Will the old song return? Will another breeze arrive from the Hijaz?

Translation: مستنصر میر

6

سرآمد روزگار این فقیری

دگر دانای راز آید که ناید؟

اس فقیر کا آخری وقت آ گیا ہے (زندگی ختم ہوئی) کوئی دوسرا (میرے علاوہ) راز کو سمجھنے والا آتا ہے یا نہیں آتا ۔

The time of this faqir has come – Will there be another who knows all secrets?

Translation: مستنصر میر

بند 4
Toggle stanza 4
اگر می‌آید آن دانای رازی
7

اگر می‌آید آن دانای رازی

بده او را نوای دل‌گدازی

اگر وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا آ جائے تو اسے دل کو پگھلا نے والا نغمہ عطا کر ۔

If that knower of secret comes, bestow on him heart‐melting voice;

8

ضمیر امتان را می‌کند پاک

کلیمی یا حکیمی نی‌نوازی

کوئی کلیم (اللہ سے کلام کرنے والا) یا کوئی بانسری بجانے والا صاحب حکمت امتوں کے ضمیر کو پاک کرتا ہے ۔

the heart of a people is purified only by a prophet or a singing sage.

بند 5
Toggle stanza 5
متاعِ من، دلِ دردآشنای است
9

متاعِ من، دلِ دردآشنای است

نصیبِ من، فغانِ نارسای است

میرا سرمایہ درد آشنا دل ہے ۔ میری قسمت میں نہ پہنچنے والی آہ و فریاد ہے ۔

My asset: a heart sympathetic to pain, my lot: an unending and unremitting cry;

10

به خاکِ مرقدِ من، لاله خوش‌تر

که هم خاموش و هم خونین‌نوای است

میری قبر کی مٹی سے لالے کا پھول زیادہ اچھا ہے ۔ کہ میری طرح خاموش بھی ہے اور خون سے بھری نوا بھی پیدا کرتا ہے ۔

a tulip can better adorn my grave: it is silent and has a voice of blood.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں