بخش 4 - به آن قوم از تو میخواهم گشادی
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
Toggle stanza 1به آن قوم از تو میخواهم گشادی
به آن قوم از تو میخواهم گشادی
فقیهش بییقینی، کمسوادی
میں تجھ سے اس قوم کی بھلائی چاہتا ہوں جس کے فقیہہ بے یقین اور کم نظر ہیں ۔
I wish for help from You for a people whose religious lawyers lack certitude and knowledge;
بسی نادیدنی را دیدهام من
«مرا ای کاشکی مادر نزادی»
میں نے بہت سے ناقابل دید باتیں دیکھی ہیں ۔ کاش کی میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا ۔ (یہ خراب حالات دیکھنے کے لیے میں دنیا میں نہ آتا) ۔
I have seen many unworthy events, would that I had not been!
Toggle stanza 2نگاهِ تو، عتابآلود تا چند؟
نگاهِ تو، عتابآلود تا چند؟
بتان حاضر و موجود تا چند؟
کب تک آپ کی نگاہ غضب آلود رہے گی ۔ کب تک حاضر اور موجود کے بت موجود رہیں گے ۔
How long you look so wrathfully at me? how long those idols of now and here?
درین بتخانه، اولادِ براهیم
نمکپروردهٔ نمرود تا چند؟
دنیا کے اس بت کدہ میں کب تک حضرت ابراہیم کی اولاد نمرود کی غلامی کرتی رہے گی ۔
how long the progeny of Abraham be faithful to Nimrod’s association in this idol temple?
Toggle stanza 3سرود رفته باز آید که ناید؟
سرود رفته باز آید که ناید؟
نسیمی از حجاز آید که ناید؟
جو سرود چلا گیا پھر آتا ہے یا نہیں آتا ۔ عرب کے خطہ حجاز مقدس سے پھر ٹھنڈی ہوا آتی ہے یا نہیں آتی
Will the old song return? Will another breeze arrive from the Hijaz?
Translation: مستنصر میر
سرآمد روزگار این فقیری
دگر دانای راز آید که ناید؟
اس فقیر کا آخری وقت آ گیا ہے (زندگی ختم ہوئی) کوئی دوسرا (میرے علاوہ) راز کو سمجھنے والا آتا ہے یا نہیں آتا ۔
The time of this faqir has come – Will there be another who knows all secrets?
Translation: مستنصر میر
Toggle stanza 4اگر میآید آن دانای رازی
اگر میآید آن دانای رازی
بده او را نوای دلگدازی
اگر وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا آ جائے تو اسے دل کو پگھلا نے والا نغمہ عطا کر ۔
If that knower of secret comes, bestow on him heart‐melting voice;
ضمیر امتان را میکند پاک
کلیمی یا حکیمی نینوازی
کوئی کلیم (اللہ سے کلام کرنے والا) یا کوئی بانسری بجانے والا صاحب حکمت امتوں کے ضمیر کو پاک کرتا ہے ۔
the heart of a people is purified only by a prophet or a singing sage.
Toggle stanza 5متاعِ من، دلِ دردآشنای است
متاعِ من، دلِ دردآشنای است
نصیبِ من، فغانِ نارسای است
میرا سرمایہ درد آشنا دل ہے ۔ میری قسمت میں نہ پہنچنے والی آہ و فریاد ہے ۔
My asset: a heart sympathetic to pain, my lot: an unending and unremitting cry;
به خاکِ مرقدِ من، لاله خوشتر
که هم خاموش و هم خونیننوای است
میری قبر کی مٹی سے لالے کا پھول زیادہ اچھا ہے ۔ کہ میری طرح خاموش بھی ہے اور خون سے بھری نوا بھی پیدا کرتا ہے ۔
a tulip can better adorn my grave: it is silent and has a voice of blood.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
هوای نیکوان عیش است و شادی
مراد عشقبازان نامرادی
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 929
سَبَتْ سَلْمیٰ بِصُدْغَیها فُؤادي
و رُوحي کُلَّ یَومٍ لي یُنادي
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 438
ز ما برگشتی و با گل فتادی
دو چشم خویش سوی گل گشادی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2679
چنین باشد چنین گوید منادی
که بیرنجی نبینی هیچ شادی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2680
در صد فتنه را بر خود گشادی
دو گامی رفتی و از پا فتادی
علامہ اقبالارمغان حجازحضور ملتبخش 14 - برهمن

