بخش 9 - تو چه دانی که درین گرد سواری باشد
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
Toggle stanza 1دگر آیین تسلیم و رضا گیر
دگر آیین تسلیم و رضا گیر
طریق صدق و اخلاص و وفا گیر
اے مسلمان ایک مرتبہ پھر تسلیم و رضا کو اپنا شعار بنا ۔ اور سچائی، محبت وخلوص اور وفا کے طریقے کو اپنا ۔
Learn the ways to win His pleasure and grace, Be truthful to Him and whole human race.
مگو شعرم چنین است و چنان نیست
جنون زیرکی از من فراگیر
یہ نہ کہہ کہ میرا شعر اس طرح اور اس طرح ہے ۔ یعنی تنقید نہ کر اور نہ ہی بے جا تحسین سے کام لے بلکہ میرے اس جنون سے دانائی یا حکمت حاصل کر ۔
Take me not poet in this or that sense, Look my passions depth from the wisdom’s lens.
Toggle stanza 2چمنها زان جنون ویرانه گردد
چمنها زان جنون ویرانه گردد
که از هنگامهها بیگانه گردد
اس جنون (عشق) سے باغات بھی ویران ہو جاتے ہیں کیونکہ (زندگی کو ) ہنگاموں سے اجنبی بنا دیتا ہے ۔
If a craze consumes the garden’s face, And saps its beauty and social grace.
ازآن هویی که افکندم درین شهر
جنون ماند ولی فرزانه گردد
میں ا س آہ و نالہ سے (عشق و مستی کو) اس شہر میں بھیجنے والا ہوں ۔ لیکن یہ جنوں سمجھداری رکھنے والا ہے یعنی ناکارہ انسان کو کارآمد انسان بنا دینے والا ہے ۔
I poured a verve and roar, in this town lanes, Will leave a craze yet to sharpen their brains.
Toggle stanza 3نخستین لاله صبح بهارم
نخستین لاله صبح بهارم
پیا پی سوزم از داغی که دارم
میں صبح بہار کا پہلا لالے کا پھول ہوں جو اس داغ جو میں رکھتا ہوں مسلسل تڑپ رہا ہوں ۔
The poppy of my dawn’s first vernal tide, Is burning alone from a scar I hide.
بچشم کم مبین تنهائیم را
که من صد کاروان گل در کنارم
میری تنہائی کو تنگ نظری سے نہ دیکھ کیونکہ میرے پہلو میں سینکڑوں گلاب کے پھولوں کے قافلے موجود ہیں ۔
So under rate not my verve’s lone part, See caravans budding from my heart.
Toggle stanza 4پریشانم چو گرد ره گذاری
پریشانم چو گرد ره گذاری
که بر دوش هوا گیرد قراری
میں راستے کی گرد کی طرح پریشان ہوں ۔ وہ حالت جو ہوا کے کندھوں پر سوار ہو یعنی بہت زیادہ بکھری ہوئی ۔
So scattered I’m like dust of the way, On the wings of storms I cannot stay.
خوشا بختی و خرم روزگاری
که بیرون آید از من شهسواری
وہ زمانہ کتنا خوش نصیب اور شاداب ہو گا جس میں مجھ سے کوئی شہ سوار (مومن) پیدا ہو گا ۔
How august and happy would be that day, When a ride is born from my own clay.
Toggle stanza 5خوش آن قومی پریشان روزگاری
خوش آن قومی پریشان روزگاری
که زاید از ضمیرش پخته کاری
وہ قوم جو زمانے کے مصائب کا شکار ہے خوش بخت ہے ۔ کیونکہ اس کے ضمیر سے مرد کامل پیدا ہونے والا ہے
How lucky a nation whom wheel of fate, Had caused a wonder through a leader great.
نمودش سری از اسرار غیب است
ز هر گردی برون ناید سواری
اس (مرد کامل) کا ظاہر ہونا پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز ہے ۔ کیونکہ ہر اڑتی ہوئی گرد و غبار سے کوئی سوار ظاہر نہیں ہوتا ۔
His birth a secret of a secret hand, Who would change her fate in a manner grand.
Toggle stanza 6به بحر خویش چون موجی تپیدم
به بحر خویش چون موجی تپیدم
تپیدم تا به طوفانی رسیدم
میں اپنے سمندر میں لہر کی طرح تڑپتا ہوں ۔ میں تڑپنے کی وجہ سے طوفان (خدائے واحد) سے آشنا ہو گیا ہوں ۔
In self’s own sea, I’m thus a restive’ wave, Till my waves in tempest to Coast would lave.
دگر رنگی ازین خوشتر ندیدم
بخون خویش تصویرش کشیدم
میں نے اس سے بہتر (زندگی کا ) دوسرا کوئی رنگ نہیں دیکھا ۔ میں نے اس کی تصویر اپنے خون سے بنائی ہے ۔ یعنی خودی کی بدولت معرفت حق حاصل کرنا نہایت تگ و دو والا کام ہے ۔
I found no better cast than my own face, With my own blood his picture I trace.
Toggle stanza 7نگاهش پر کند خالی سبوها
نگاهش پر کند خالی سبوها
دواند می به تاک آرزوها
اس (مرد کامل) کی نگاہ شراب کے خالی پیالوں کو بھر دے گی ۔ ان کی خواہشات کی انگور کی بیل میں شراب دوڑا دے گی ۔
His glance would fill up the empty bowl, He runs the will’s wine in vine’s veins whole.
ز طوفانی که بخشد رایگانی
حریف بحر گردد آب جوها
اس طوفان سے (مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے انعام) بلامعاوضہ ہی مل جائے گا ۔ نہریں (کمزور مسلمان) سمندر کا مقابلہ کرنے کی اہل ہو جائیں گی ۔
His storms and gales are a God gift free, He made a small brook, ‘rival of sea.
Toggle stanza 8چو بر گیرد زمام کاروان را
چو بر گیرد زمام کاروان را
دهد ذوق تجلی هر نهان را
جب (مرد کامل) قافلہ کی باگ دوڑ پکڑے گا تو ہر پوشیدہ کو تجلی کا ذوق و شوق عطا کر دے گیا ۔ یعنی چھپی ہوئی صلاحتیں ظاہر ہو جائیں گی ۔
The caravans reins he would take when, He gives vision taste to each hidden then.
کند افلاکیان را آنچنان فاش
ته پا می کشد نه آسمان را
(مرد کامل) آسمانوں کے راز اس طرح ظاہر کرتا ہے جیسے پاؤں کے نیچے نو آسمانوں کو کھینچا جاتا ہے ۔
He makes so much bare the heavenly hosts That all nine skies would be tinder his force.
Toggle stanza 9مبارکباد کن آن پاک جان را
مبارکباد کن آن پاک جان را
که زاید آن امیر کاروان را
اس پاکیزہ روح (خاتون) کو مبارکباد دینا جو اس کارواں کے سردار کو پیدا کرے گی ۔
To that holy mother I greet with pride, From whom will be born the caravan’s guide.
ز آغوش چنین فرخنده مادر
خجالت می دهم حور جنان را
ایسی خوشبخت ماں کی گود سے جنت کی حوروں کو شرمندگی عطا کر رہا ہوں ۔
On the lap of, ‘that’ fortunate dame, The paradise nymphs would feel a shame.
Toggle stanza 10دل اندر سینه گوید دلبری هست
دل اندر سینه گوید دلبری هست
متاعی آفرین غارتگری هست
میرے سینے میں میرا دل کہہ رہا ہے کہ کوئی مرد کامل ضرور ہے ۔ دولت جتنی چاہے پیدا کر اس کو تباہ کرنے کے لیے کوئی ضرور ہے ۔
My heart thus says that the hero will hail, So gather you stocks as he would assail.
به گوشم آمد از گردون دم مرگ
«شکوفه چون فرو ریزد بری هست»
میری موت کے وقت آسمان سے مجھے آواز آئی کہ جب کلی پودے سے گرتی ہے تو پھل پیدا ہوتا ہے ۔ یعنی میرے بعد کوئی رہنما ضرور آئے گا ۔
At death bed I heard a voice with zoom, When a flower fades a bud would bloom.

