بخش 8 - جهان تست در دست خسی چند

بند 1
Toggle stanza 1
جهان تست در دست خسی چند
1

جهان تست در دست خسی چند

کسان او به بند ناکسی چند

تیرا جہان چند کمینوں کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کے کسان (دولت و زمین) چند نا اہل لوگوں کی قید میں ہیں ۔

Your world is in the hands of a few mean fellows, Its people are in fetters of inhuman persons;

2

هنرور میان کارگاهان

کشد خود را به عیش کرکسی چند

کاریگر لوگ کارخانوں میں ہیں اور کچھ گدھوں (سرمایہ داروں ) کے لیے خود کو مار رہے ہیں ۔

a skilful man, in factories, kills himself for a few vultures’ pleasure.

بند 2
Toggle stanza 2
مریدی فاقه مستی گفت با شیخ
3

مریدی فاقه مستی گفت با شیخ

که یزدان را ز حالِ ما خبر نیست

ایک بھوکے مرید نے پیر و مرشد کو کہا کہ خدا ہمارے حال سے واقفیت نہیں رکھتا ۔ یعنی ہمارے حال کی خبر نہیں (پیر و مرشد سے مراد وہ جعلساز پیر ہیں جو خود تو عیش میں ہیں لیکن رعایا غربت کا شکار ہے) ۔

A hungry disciple said to his master: ‘God does not know of our state:

Translation: مستنصر میر

4

به ما نزدیک‌تر از شهرگِ ماست

ولیکن از شکم نزدیک‌تر نیست

خدا تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے لیکن کیا وہ پیٹ سے زیادہ نزدیک نہیں ہے ۔

He is closer to us than our jugular veins, But not as close as our bellies.’

Translation: مستنصر میر