خوش آن راهی که سامانی نگیرد

شاعر: علامہ اقبال

صنف: رباعی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
خوش آن راهی که سامانی نگیرد
1

خوش آن راهی که سامانی نگیرد

دل او پند یاران کم پذیرد

وہ مسافر خوش قسمت یا کامیاب ہے جو کوئی سامان نہیں رکھتا ۔ دنیاوی دلفریبیوں سے دل نہیں لگاتا ۔ اس کا دل دوستوں کی نصیحت کم مانتا ہے ۔

Happy the wayfarer who carries no provisions and listens less to friends’ advice.

2

به آهی سوزناکش سینه بکشای

ز یک آهش غم صدساله میرد

اس کی پرسوز آہ سے سینے کو کھول دے کہ اس کی ایک آہ سے سو سال کا غم مر جاتا ہے ۔ (علامہ اقبال اپنی طرف اشارہ کر رہے ہیں ) ۔

Open thy breast to his soul‐burning sigh, for his one sigh kills a hundred‐year‐old grief.