خوش آن راهی که سامانی نگیرد
Toggle stanza 1خوش آن راهی که سامانی نگیرد
11
خوش آن راهی که سامانی نگیرد
دل او پند یاران کم پذیرد
وہ مسافر خوش قسمت یا کامیاب ہے جو کوئی سامان نہیں رکھتا ۔ دنیاوی دلفریبیوں سے دل نہیں لگاتا ۔ اس کا دل دوستوں کی نصیحت کم مانتا ہے ۔
Happy the wayfarer who carries no provisions and listens less to friends’ advice.
22
به آهی سوزناکش سینه بکشای
ز یک آهش غم صدساله میرد
اس کی پرسوز آہ سے سینے کو کھول دے کہ اس کی ایک آہ سے سو سال کا غم مر جاتا ہے ۔ (علامہ اقبال اپنی طرف اشارہ کر رہے ہیں ) ۔
Open thy breast to his soul‐burning sigh, for his one sigh kills a hundred‐year‐old grief.

