وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے ۔ اقبال اپنے عشق کی شوریدہ سری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس شور پیدا کرنے والے عشق کو ہر راستہ تیری گلی کی طرف لے گیا ۔ وہ اپنی تلاش کر کیا فخر کرتا کہ راستہ تو خود ہی اسے تیری گلی کی طرف لے گیا تھا ۔ سچا عشق اور سچی طلب ہی منزلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ عاشق کو اپنی تلاش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی کامیا بی اس کے محبوب کی نظرِ عنایت کی مرہونِ منت ہے ۔
سر زمینِ حجاز کے صحرا سے زمانے کا خضر ظہور کر رہا ہے اس دور دراز وادی سے کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہو رہا ہے (احیائے اسلام کی کوئی تحریک پیدا ہونے والی ہے) ۔
اے خدا! تو اس وقت مسلمانوں کو جان ہتھیلی پر رکھنے کا حکم مت دے (کیونکہ ان کے جسم جہاد کے قابل نہیں ہیں ) یا ان کے ناتواں جسموں میں طاقت وہمت بھر دے ۔ یعنی تیرے راستے میں لڑنے کا حوصلہ عطا کر دے یا ویسا کر دے یا ایسا کر دے ۔
عقل بھی عشق کی مانند ہے اور وہ ذوقِ نظر سے انجان نہیں ہے ۔ لیکن اس بے چاری کے پاس وہ ہمت و دلیری نہیں جو عشق کو حاصل ہے ۔
میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔
میں تو صحرا میں کھلنے والا لالہ ہوں (میرا باغ سے کیا کام) مجھے باغ سے لے جاوَ اور جنگل ، پہاڑ اور بیابان کی ہواؤں میں لے جاوَ ۔ (میری اصل عالم علوی ہے ۔ وہاں سے مجھے عالم دنیا میں لایا گیا ۔ اب مجھے پھر سے اسی عالم میں پہنچا دو ۔ اس شعر میں صحرا کنایہ ہے عالم علوی اور باغ کنایہ ہے عالم دنیا کا) ۔
سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
اگرچہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو (اے محبوب) ایک روز بے نقاب میرے سامنے آ جائے گا ۔ لیکن تو یہ نہ سمجھ کہ اس طرح میری جان اضطراب و بے چینی سے نجات حاصل کر لے گی ۔ (کیونکہ عشق میں ہجر و وصال دونوں ہی بے قراری کا سبب بنے رہتے ہیں ) ۔
عشق جستجو کرتا رہا اور اس کی اس جستجو کا حاصل آدم ہے ۔ اس لیے عشق نے اپنا جلوہ آب و گل یعنی جسم خاکی کے پردے سے ظاہر کیا ۔
مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کی ہستی کو زوال نہیں (عشق فانی نہیں ، بلکہ ابدی حقیقت ہے) وہ ایک ایسا کفر ہے جو حاضر و موجود کا زنار پہننے والا نہیں ۔
میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔
مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں بزم طرب میں رباب اور بانسری کی لے کے ساتھ رنگ رنگ کی شرابیں پیا کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب شراب کا جام میرے ہاتھوں میں اور صراحی (ساقی) کے ہاتھوں میں ہوتی تھی ۔
اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔
میں تمہارے باغ کی روش پر لالہ کے پھول کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں ۔ اے عجم کے نوجوانو مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔
اس چمن میں گل و لالہ تمنا کا داغ نہ رکھتا تھا اور اس کی شوخ و بیباک نرگس نگاہ شوق نہیں رکھتی تھی ۔ چمن میں بے عملی کا دور دورہ تھا ۔