وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
اے خدا تو نے میری آہ و زاری کو میری شاعری کی وجہ سے بڑھا دیا ہے ۔ میری اس آواز سے ہزاروں سال کی پرانی مٹی کو زندہ کر دے ۔ مطلب یہ کہ مسلمان اس مادہ پرست دنیا میں گم ہو کر اپنی پہچان کھو چکا ہے ۔ وہ اپنی پہچان صرف اس صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے دل میں تیری محبت پیدا ہو جائے ۔
اے خدا اہل کفر اور اہل ایمان دونوں پر اپنی رحمت عام نچھاور کر اور اپنے چودھویں کے چاند جیسے چہرے سے نقاب ہٹا دے ۔ کیونکہ تیری رحمت تو ہر ایک کے لیے ہے ۔ جب تیرے چہرے کے انوار و تجلیات مومن دیکھے گا تو اس کا ایمان اور مضبوط ہو گا اور جب اسے کافر دیکھیں گے تو یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے
جب بہار کا موسم اتنا دلکش ہو اور بلبلیں گیت گا رہی ہوں تو ایسے میں تو بھی (اے محبوب) اپنے چہرے سے نقاب اٹھا کر اس خوشگوار ماحول کے مطابق شراب وصل پلا دے ۔
اٹھ اور پیاسی مٹی (آدمی کے خاکی جسم) پر زندگی کی شراب چھڑک دے کیونکہ اس خاکی جسم کے لیے عشق کی شراب تریاق کا کام دے گی ۔ اے خدا تو اپنے عشق کی آگ اس جسم خاکی میں تیز کر دے اور میرے نفس کی آگ ٹھنڈی کر دے ۔
اس زندگی میں حرارت و گداز تیری تلاش کی لذت کے باعث ہے ۔ اگر میں تیری طرف سفر اختیار نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے ۔
ہر کسی کی دوستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور صرف آشنائے خدا کی صحبت اختیار کر ۔ کیونکہ اس کے سوا تیرا کوئی دوست نہیں ہو سکتا ۔ خدا سے خودی طلب کر اور خودی کے ذریعے خدا طلب کر ۔
(اے میرے محبوب) میرے اس بے چین دل کو (اپنے حسن کے جلووَں ) کی کشمکش سے ذرا بھی فراغت نہ دے ۔ اور اپنی ان پیچیدہ زلفوں میں ایک دو شکن پیدا کر دے تاکہ میں ان زلفوں کے پیچ و خم سے باہر نہ آ سکوں ۔
(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔