وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔
چاند اور ستارے جو راہِ شوق (عشق) میں اکھٹے محوِ سفر ہیں وہ (حسن) کی اشارہ بازیوں کو پرکھنے ، اس کی دلفریب اداؤں کو سمجھنے اور حقیقت شناس نظر رکھنے والے ہیں (چاند اور ستارے منشاے فطرت کے مطابق مصروف سفر ہیں ) ۔
اقبال اس شعر میں ربِ ذوالجلال سے عرض کرتے ہیں کہ غزل گوئی کا وہ انداز اور سُرتال کا وہ اسلوب جو کبھی مسلم قوم میں موجود تھا اُسے پھر سے زندہ کر دے ۔ افسردہ اور غم زدہ دلوں کو مسرتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے کوئی شگفتہ کلام لے کر آ ۔ تا کہ مسلمانوں کی زندگی میں پھر سے عروج کی حرارت پیدا ہو جائے ۔
لالہ کے پھولوں کے اندر نرم و لطیف ہو اکی طرح گزرا جا سکتا ہے ۔ ایک شگفتہ اور نرم سانس سے غنچہ کھلایا جا سکتا ہے ۔ (اسی طرح غم زدہ دلوں کی مسرتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہے) ۔
(اے انسان) اگر تو محبت کے سمندر میں رہتے ہوئے ساحل کی تمنا کر رہا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تو ہزاروں شعلے دے کر ایک چنگاری حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
یہ جہاں اس دل کو قرار پہنچانے والے محبوب (خالق کائنات) کا ایسا پیغام رساں ہے جو کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں ۔ ہر وقت سرگرمِ سفر رہتا ہے ۔ یہ جہاں کیسا زبردست قاصد ہے کہ جو سر تا پا پیغام ہی پیغام ہے (زمانہ ہر لمحہ نئے پیغامات لے کر آتا ہے) ۔
میں اپنے محبوب کی سادہ دلی سے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ (میرے غمِ عشق ) کا کوئی علاج نہیں ۔
میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔
(دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (با عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔
مجھے موت و حیات کی کشمکش سے میرا مقامِ رضا باہر نکال لایا ۔ میرے اس مقام رضا نے میرے کیسے کیسے مسائل حل کر دیے ہیں ۔
ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنیاوی مال و دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے ۔ ہرے رنگ کے پردوں کے پیچھے اور کونسا فتنہ پوشیدہ ہے دنیا میں جتنے بھی فتنے و فساد پیدا ہوئے ان کا سبب ہوس ہی ہے ۔
فرشتہ اگرچہ (انسانوں کی طرح) آسمانوں کے جادو (قوانینِ فطرت) سے آزاد ہے اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے پر ہے ۔ یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اسے عشق کے سوز و گداز کی بدولت حاصل ہے ۔
میرا محبوب گھوڑے پر سوا ہو کر راستہ میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے والے عشاق پر نظر ڈالے بغیر گزر رہا ہے ۔ اے دوستو! مجھ تھام لو کہ میرا دل اب میرے قابو میں نہیں رہا (شراب عشق کے باعث مجھ پر نشہ طاری ہو رہا ہے) ۔
وہ عرب جو رات کے وقت محفلیں سجاتے تھے اب کہاں ہیں ۔ وہ عجم جو عاشقانہ نغمے زندہ کرے وہ کہاں ہیں ۔ نہ تو اب عربوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے اور نہ ہی عجمیوں میں ذوق نغمہ گری زندہ ہے ۔
ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔
میرا (مردِ مومن) خیال آسمانوں ( میں ہونے والی تبدیلیوں ) کا مشاہدہ کر رہا ہے اور چاند کے شانوں پر اور کہکشاں کی گود میں رہ رہا ہے (زمین کا رہنے والا آسمان سے بھی پرے ہونے والے واقعات کا علم رکھتا ہے) ۔
میرے میکدے کی شراب میں ایرانی افکار و خیالات نہیں پائے جاتے ۔ میری اس عجمی صراحی یعنی فارسی شاعری میں جو شراب ہے وہ میرے جگر کا لہو ہے ( میں نے یہ خیالات کسی سے مستعار نہیں لیے) ۔
اس چمن میں رہنے والے پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے ۔ پرندہ اگر شاخ پر بیٹھا ہو تو اس کا دل اور ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے گھونسلے میں ہو تو پھر دل اور ہوتا ہے ۔ اہلِ دنیا کے دل حرص و ہوس کے تابع ہوتے ہیں جبکہ مردانِ حق اللہ کے طالب ہوتے ہیں ) ۔
ابھی تک راہِ طلب میں میرا بوجھ کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے ۔ مطلب یہ کہ دل میں طلب تو ہے لیکن سامانِ سفر موجود نہیں ۔ کیونکہ میں تو کارواں ، سامانِ سفر اور منزل کے تصورات میں ہی الجھا ہوا ہوں ۔ حالانکہ منزلِ عشق کے لیے مادی اسباب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔
اس دنیا کی خوشی اور خاموشی کی پرواہ کیے بغیر زندہ دلی سے وقت گزارے (زندگی کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرے) اور تیرے راستے میں جو چیز بھی آئے اس سے مسکراتے ہوئے گزر جا ۔
آ کہ اہلِ مشرق نے نیا تعویذ باندھا ہے (وہ فرنگی جادوگروں کے طلسم کا توڑ تلاش کر چکے ہیں ) ۔ ایسی صورت میں اس بت (فرنگی افکار) کا طواف مت کر جسے توڑا جا چکا ہے) ۔
میں نے اس بارے میں شریعت کی رو سے تحقیق نہیں کی ۔ سوائے اس کے کہ عشق سے انکار کرنے والا کافر اور آتش پرست ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے بغیر مسلمان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔ صرف عقل پر بھروسہ کر کے سچائی کی پہچان ممکن نہیں ۔ عشق کے بغیر شریعت کی بہت سے باتیں ایک معمہ نظر آتی ہیں ۔
تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔
شہرِ عشق میں کہ جہاں کی مٹی درد آشنا ہے اس کے ذرے ذرے میں پاک جان انوار الہٰی کو دیکھا جا سکتا ہے (عاشق کے رگ و پے میں سوزِ عشق پایا جاتا ہے) ۔
میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔
قلندر جو کہ اپنے خاکی جسم اور مادی جہان کی تسخیر میں مصروف رہتے ہیں وہ اگرچہ بوریا نشین ہوتے ہیں پھر بھی بادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں ۔ بادشاہوں کے تخت ان کے خوف سے کانپتے ہیں ۔
میں دونوں ہاتھوں سے چلانے والی تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے بے نیام کر دیا (قدرت نے باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے بے نیام کیا ہے) اور مجھے سان پر چڑھا کر زمانے پر چلا دیا ۔
قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔
ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔