وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)
میری فریاد سوزِ غم سے بھری ہوئی ، بے خوف اور غم اُبھارنے والی ہے ۔ کیونکہ میرے حسن و خاشاک میں چنگاری گری ہوئی ہے اور صبح کی ہوا بھی تیز ہے ۔ (اس تیز ہوا سے آگ بھڑک اٹھے گی اور مجھے ہر آلائش سے پاک کر دے گی) ۔
اس بزم ِ جہاں میں ساقی رہے اور نہ ہی میکش اس کا کام شراب و ساقی سے گزر گیا ہے ۔ ایسا دوست اب کہاں ہے کہ میں بچی ہوئی شراب اس کے جام میں انڈیل دوں ۔ مجھے تو کوئی اپنے اسلاف کی پیروی کرنے والا نظر نہیں آتا ۔
اے خدا مجھے اس پانی (شرابِ عشق) سے صراحی یا بڑا پیالہ عطا کردے جو میرے سینے میں لالہ کے پھول کھلا دے ۔ یعنی وہ شراب عشق جو میرے دل میں امنگوں کو بیدار کر دے ۔ اے ساقی دوراں میرے اس مٹھی بھر جسم کو بہار کی ہوا کے سپرد کر دے تاکہ میری ذات سے دوسروں کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔
میں ہر اس برے نقش سے پاک ہو کر آیا ہوں جو دل پر آنکھوں کے ذریعے ابھرتا ہے ۔ میں پاکیزہ فطرت رکھتا ہوں اور تیرے پاس ہر فکر اور خیال سے آزاد ہو کر آیا ہوں یعنی میرا دل ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے ۔
میرے بے قابو دل نے (جس کا ایمان پختہ نہیں تھا) نورِ ایمان کے ساتھ ارتکاب کفر کیا ہے ۔ اسی وجہ سے میری حالت یہ ہے کہ میں سجدہ ریز تو خدا کے حضور ہوں لیکن غلامی بتوں کی کر رہا ہوں ۔ میرا دل خدا پر ایمان لانے کے باوجود دنیا کی آلائشوں سے پاک نہیں ہے ۔
اے خدا! تو حشر کے روز مجھ سے نالہَ مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی ۔ پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنی شاعری کے ذریعے اور تیزی پیدا کروں ۔
میری حالت یہ ہے کہ نہ تو میرے اندر کفر اور ایمان کی جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی اپنی جان جنت کے باغ کی آرزو میں غموں کے حوالے کرتا ہوں ۔
میں نے اس بند دروازے کے گنبد میں ایک راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ کیونکہ میری صبح صادق کی آہ میرے خیال سے بھی زیادہ بلند پرواز ہے ۔
میں گناہگار تو ہوں لیکن غیور ہوں ۔ محنت کے بغیر مزدوری لینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میرے سینے میں اس بات کا داغ ہے کہ قدرت نے اس کی (ابلیس) کی تقدیر سے میری تقصیر وابستہ کر دی ہے (آدمی گناہ کرنے کے بعد اسے ابلیس کی کارستانی قرار دیتا ہے اور خود جنت کا حقدار بن جاتا ہے) ۔
یہ جہان اندھا ہے اور دل کے آئینے کی صفائی سے غفلت میں پڑا ہوا ہے (اس دل کے آئینے میں نہ صرف خارجی جہاں کا عکس موجود ہے بلکہ معرفت حق بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے) لیکن جہان کی توجہ تو خارجی اسباب پر ہے اور جو آنکھ کہ باطن کو دیکھنے والی بن گئی اسے معلوم ہو گیا کہ دل کیا چیز ہے ۔
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
تو اس دنیا میں اپنے سوا کوئی ایسا دوست نہیں پائے گا جو تیرے دل کی ناز برداری کرنا جانتا ہو ۔ اس لیے تو اپنے آپ میں گم ہو کر بازی عشق کے ناموس کی رکھوالی کر ۔
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
صبح کے سورج کی مانند نگاہِ حق شناس پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی جسم خاکی کو محبوب کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے ۔ نگاہِ حق شناس جب جسم خاکی میں پیدا ہو جائے تو اس کے نور سے دنیا کو بھی منور کیا جا سکتا ہے ۔
تو نے اے مسلمان غیروں کی صحبت اختیار کر کے ان کے افکار و خیالات کی متواتر شراب پی ہے ۔ تو نے غیروں کے نور سے مسلسل اپنے دل کے پیالے کو روشن کیا ہے ۔ غیروں کے افکار چھوڑ کر اپنے دین کی طرف لوٹ جا ۔
اے خدا مجھے ایسا دل عطا کر دے کہ جس کی مستی اس کی اپنی ہی شراب ہو ۔ مجھ سے وہ دل واپس لے لے کہ جو مدہوش بے خبر اور اپنی بجائے غیروں کے بارے میں سوچتا ہو ۔
ایک دن ایسا آئے گا کہ خاک کے بنے ہوئے آدمیوں کی روشنی فرشتوں سے بڑھ جائے گی اور یہ زمین ہماری قسمت کے ستارے سے آسمان بن جائے گی ۔ انسان دنیاوی اور روحانی ترقی میں فرشتوں سے آگے نکل جائے گا ۔ )
اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔
خود کو پہچان لینے والے شخص کا عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اس کی منزل مقصود تک نہ پہنچنے کی دلیل ہے ۔ اے درد آشنا تو آشنائی کی عادت چھوڑ دے (خودی کو پا لینے والا شخص خدا آشنا بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہجومِ آدم میں گم نہیں ہوتا بلکہ بروقت یاد خدا میں مصروف نظر آتا ہے) ۔
اس صحرا (مسلمانوں ) میں شاید کسی قافلے کا گزر ہوا ہے بہت مدت بعد میں نے ساربانوں کے گیت سنے ہیں ۔ قوم کی اصلاح کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔
اے ناداں تو اپنے غموں کے علاج کی امید اہلِ یورپ سے رکھتا ہے ۔ شاہین کا دل اس پرندے کے لیے نہیں جلتا جو اس کے پنجے میں جکڑا ہوا ہو ۔ (جس طرح شکاری اپنے شکار پر رحم نہیں کھاتا اسی طرح اہلِ یورپ بھی اپنی سنگدلی کی بدولت محکوم اقوام پر رحم نہیں کھاتے ۔ اس لیے اہل یورپ سے محکوم لوگوں کو رحم کی امید نہیں رکھنی چاہیے) ۔
یہ جہان جو رنگ اور خوشبووَں سے بھرپور ہے ۔ لیکن تو اس جہان رنگ و بو کو ایک راز کہتا ہے ایک دفعہ خود کو اس کے تاروں پر لگا تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو مضراب ہے اور یہ جہان ایک ساز ہے ۔ تیرے مضراب کے بغیر سازِ جہاں میں نغمگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔
بہار آ گئی ہے اور یہ نگاہ لالہ کے پھول کی آگ کی طرح سرخی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ (چاروں طرف پھول کھلے ہیں ) لیکن میرے ٹکڑے ٹکڑے اس دل سے ہزاروں فریادیں نکل رہی ہیں ۔