کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے
Toggle stanza 1کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے
کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے
نہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے
بجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دے
دگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے
گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دے
کہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے
ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیراب
خدا کے واسطے تیغ ستم کو آب تو دے
تمہارے مطلع ابرو پہ یہ کہے ہے خال
کہ ایسا نقطہ کوئی وقت انتخاب تو دے
در قبول ہے درباں نہ بند کر در یار
دعائے خیر مری ہونے مستجاب تو دے
کھلے ہے ناز سے گلشن میں غنچۂ نرگس
ذرا دکھا تو اسے چشم نیم خواب تو دے
بلا سے آپ نہ آئیں پہ آدمی ان کا
تسلی آ کے مجھے وقت اضطراب تو دے
ہوا بگولے میں ہے کشتگان زلف کی خاک
کہ بعد مرگ بھی معلوم پیچ و تاب تو دے
بلا سے کم نہ ہو گریہ سے میرا سوز جگر
بجھا پر ان کی ذرا آتش عتاب تو دے
شہید کیجیو قاتل ابھی نہ کر جلدی
ٹھہرنے مجھ کو تہ تیغ اضطراب تو دے
شکار بستۂ فتراک کو ترے مقدور
ہوا نہ یہ بھی کہ بوسہ سر رکاب تو دے
دل برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے خوارو
جو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے
نشے میں ہوش کسے جو گنے حساب کرے
جو تجھ کو دینا ہیں بوسے بلا حساب تو دے
جواب نامہ نہیں گر تو رکھ دو نامۂ یار
جو پوچھیں قبر میں عاشق سے کچھ جواب تو دے
رکھے ہے حوصلہ دریا کب اہل ہمت کا
نہیں یہ اتنا کہ بھر کاسۂ حباب تو دے
کہاں بجھی ہے تہ خاک میری آتش دل
کہو ہوا سے ہلا دامن سحاب تو دے
خنک دلوں کی اگر آہ سرد دوزخ میں
پڑے تو واقعی اک بار آگ داب تو دے
کرے گا قتل وہ اے ذوقؔ تجھ کو سرمے سے
نگہ کی تیغ کو ہونے سیاہ تاب تو دے
پہنچ رہوں گا سر منزل فنا اے ذوقؔ
مثال نقش قدم کرنے پا تراب تو دے
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

