جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

Toggle stanza 1
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
1

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

2

تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا

رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا

3

دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر

تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا

4

جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا

حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا

5

ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں

کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا

6

ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہ

کہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا

7

فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک

الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

8

کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر

نہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا

9

کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ

کہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…