جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
Toggle stanza 1جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
11
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
22
تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا
رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا
33
دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر
تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا
44
جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا
حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا
55
ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں
کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا
66
ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہ
کہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا
77
فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک
الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا
88
کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر
نہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا
99
کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ
کہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

