آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
Toggle stanza 1آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
ہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا
جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر
جو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا
بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا
لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا
ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے
لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا
کھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فام
اژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا
تاثیر محبت عجب اک حب کا عمل ہے
لیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا
دل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھر
یہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا
فرقت میں تری تار نفس سینے میں میرے
کانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا
اے گریہ نہ رکھ میرے تن خشک کو غرقاب
لکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا
ہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر نخل محبت
یہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا
وہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہر
اور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا
ڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شام
اور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا
جب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سے
گر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا
القصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سے
دل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا
ہے قطع رہ عشق میں اے ذوقؔ ادب شرط
جوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

