کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے
Toggle stanza 1کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے
11
کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے
موت آتی ہے اجل کو یاں تلک آتے ہوئے
22
آتش خورشید سے اٹھتا نہیں دیکھا دھواں
آ کھڑے ہو بام پر تم بال سکھلاتے ہوئے
33
چاک آتا ہے نظر پیراہن صبح بہار
کس شہید ناز کو دیکھا ہے کفناتے ہوئے
44
وہ نہ جاگے رات کو اور ضد سے بخت خفتہ کی
بج گیا آخر گجر زنجیر کھڑکاتے ہوئے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

