کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے

Toggle stanza 1
کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے
1

کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے

موت آتی ہے اجل کو یاں تلک آتے ہوئے

2

آتش خورشید سے اٹھتا نہیں دیکھا دھواں

آ کھڑے ہو بام پر تم بال سکھلاتے ہوئے

3

چاک آتا ہے نظر پیراہن صبح بہار

کس شہید ناز کو دیکھا ہے کفناتے ہوئے

4

وہ نہ جاگے رات کو اور ضد سے بخت خفتہ کی

بج گیا آخر گجر زنجیر کھڑکاتے ہوئے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…