تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
Toggle stanza 1تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
11
تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
صبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیں
22
اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کے
خط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں
33
کیوں نہ لڑوائیں انہیں غیر کہ کرتے ہیں یہی
ہم نشیں جن کے نصیبے کہیں لڑ جاتے ہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

