تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں

Toggle stanza 1
تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
1

تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں

صبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیں

2

اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کے

خط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں

3

کیوں نہ لڑوائیں انہیں غیر کہ کرتے ہیں یہی

ہم نشیں جن کے نصیبے کہیں لڑ جاتے ہیں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…