غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

Toggle stanza 1
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
1

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

2

اڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں

اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا

3

دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں

اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا

4

دیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیب

تھا سازگار طالع ناساز دیکھنا

5

بد کام کا مآل برا ہے جزا کے دن

حال سپہر تفرقہ انداز دیکھنا

6

مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم

پامال ہو نہ جائے سرافراز دیکھنا

7

میری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو

بے طاقتی پہ سرزنش ناز دیکھنا

8

ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے

مومنؔ غم مآل کا آغاز دیکھنا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…