غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
Toggle stanza 1غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
11
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا
22
اڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں
اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا
33
دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا
44
دیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیب
تھا سازگار طالع ناساز دیکھنا
55
بد کام کا مآل برا ہے جزا کے دن
حال سپہر تفرقہ انداز دیکھنا
66
مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم
پامال ہو نہ جائے سرافراز دیکھنا
77
میری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو
بے طاقتی پہ سرزنش ناز دیکھنا
88
ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے
مومنؔ غم مآل کا آغاز دیکھنا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

