شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
Poet: Momin Khan Momin
Toggle stanza 1شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
11
شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
دیکھو دشمن نے تم کو کیا جانا
22
شعلۂ دل کو ناز تابش ہے
اپنا جلوہ ذرا دکھا جانا
33
شوق نے دورباش اعدا کو
اس کی محفل میں مرحبا جانا
44
اس کے اٹھتے ہی ہم جہاں سے اٹھے
کیا قیامت ہے دل کا آ جانا
55
گھر میں خود رفتگی سے دھوم مچی
کیونکے ہو اس تلک مرا جانا
66
پوچھنا حال یار ہے منظور
میں نے ناصح کا مدعا جانا
77
مے نہ اتری گلے سے جو اس بن
مجھ کو یاروں نے پارسا جانا
88
شکوہ کرتا ہے بے نیازی کا
تو نے مومنؔ بتوں کو کیا جانا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

