شوخ کہتا ہے بے حیا جانا

Toggle stanza 1
شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
1

شوخ کہتا ہے بے حیا جانا

دیکھو دشمن نے تم کو کیا جانا

2

شعلۂ دل کو ناز تابش ہے

اپنا جلوہ ذرا دکھا جانا

3

شوق نے دورباش اعدا کو

اس کی محفل میں مرحبا جانا

4

اس کے اٹھتے ہی ہم جہاں سے اٹھے

کیا قیامت ہے دل کا آ جانا

5

گھر میں خود رفتگی سے دھوم مچی

کیونکے ہو اس تلک مرا جانا

6

پوچھنا حال یار ہے منظور

میں نے ناصح کا مدعا جانا

7

مے نہ اتری گلے سے جو اس بن

مجھ کو یاروں نے پارسا جانا

8

شکوہ کرتا ہے بے نیازی کا

تو نے مومنؔ بتوں کو کیا جانا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…