آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
Toggle stanza 1آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
11
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو
22
اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا
اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو
33
چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح
طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو
44
ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے
کم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو
55
مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ
بدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو
66
محفل میں تم اغیار کو دزدیدہ نظر سے
منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو
77
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
88
دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو
اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو
99
جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے
جور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

