آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

Toggle stanza 1
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
1

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

2

اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا

اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو

3

چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح

طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو

4

ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے

کم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو

5

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ

بدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو

6

محفل میں تم اغیار کو دزدیدہ نظر سے

منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو

7

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

8

دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو

اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو

9

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے

جور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…