دل کے ٹکڑوں کو بغل گیر لئے پھرتا ہوں

Toggle stanza 1
دل کے ٹکڑوں کو بغل گیر لئے پھرتا ہوں
1

دل کے ٹکڑوں کو بغل گیر لئے پھرتا ہوں

کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…