آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا
Toggle stanza 1آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا
11
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا
کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا
22
سرگرم نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیب
مت آشیاں چمن میں مرے متصل بنا
33
جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق
بولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سل بنا
44
جس تیرگی سے روز ہے عشاق کا سیاہ
شاید اسی سے چہرۂ خوباں پہ تل بنا
55
لب زندگی میں کب ملے اس لب سے اے کلال
ساغر ہماری خاک کو متھ کرکے گل بنا
66
اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر
ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا
77
سن سن کے عرض حال مرا یار نے کہا
سوداؔ نہ باتیں بیٹھ کے یاں متصل بنا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

