آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا

Toggle stanza 1
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا
1

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا

کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا

2

سرگرم نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیب

مت آشیاں چمن میں مرے متصل بنا

3

جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق

بولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سل بنا

4

جس تیرگی سے روز ہے عشاق کا سیاہ

شاید اسی سے چہرۂ خوباں پہ تل بنا

5

لب زندگی میں کب ملے اس لب سے اے کلال

ساغر ہماری خاک کو متھ کرکے گل بنا

6

اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر

ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا

7

سن سن کے عرض حال مرا یار نے کہا

سوداؔ نہ باتیں بیٹھ کے یاں متصل بنا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…