جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

Toggle stanza 1
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
1

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

2

دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کا

گزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے

3

تار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دل

آنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے

4

جو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں اپنی

گو جامہ زرد پہنے یا چیرہ لال باندھے

5

تیرے ہی سامنے کچھ بہکے ہے میرا نالہ

ورنہ نشانے ہم نے مارے ہیں بال باندھے

6

بوسہ کی تو ہے خواہش پر کہیے کیونکہ اس سے

جس کا مزاج لب پر حرف سوال باندھے

7

ماروگے کس کو جی سے کس پر کمر کسی ہے

پھرتے ہو کیوں پیارے تلوار ڈھال باندھے

8

دو چار شعر آگے اس کے پڑھے تو بولا

مضموں یہ تو نے اپنے کیا حسب حال باندھے

9

سوداؔ جو ان نے باندھا زلفوں میں دل سزا ہے

شعروں میں اس کے تو نے کیوں خط و خال باندھے

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…