لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم
Toggle stanza 1لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم
11
لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم
ڈبرے جو تھے خشک بھر گئے ہم
22
تجھ عشق میں روز خوش نہ دیکھا
دکھ بھرتے ہی بھرتے مر گئے ہم
33
تیرا جو ستم ہے اس کی تو جان
اپنی تھی سو خوب کر گئے ہم
44
یہ قطعہ پڑھے تھا سوز دل سے
سودا کے جو رات گھر گئے ہم
55
جوں شمع لبوں پر آ رہا جی
تن تھا سو گداز کر گئے ہم
66
اتنی بھی پتنگ پیش قدمی!
گر شام نہیں سحر گئے ہم
77
ہوگی نہ کسی کو یہ خبر بھی
اس مجلس سے کدھر گئے ہم
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

