لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم

Toggle stanza 1
لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم
1

لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم

ڈبرے جو تھے خشک بھر گئے ہم

2

تجھ عشق میں روز خوش نہ دیکھا

دکھ بھرتے ہی بھرتے مر گئے ہم

3

تیرا جو ستم ہے اس کی تو جان

اپنی تھی سو خوب کر گئے ہم

4

یہ قطعہ پڑھے تھا سوز دل سے

سودا کے جو رات گھر گئے ہم

5

جوں شمع لبوں پر آ رہا جی

تن تھا سو گداز کر گئے ہم

6

اتنی بھی پتنگ پیش قدمی!

گر شام نہیں سحر گئے ہم

7

ہوگی نہ کسی کو یہ خبر بھی

اس مجلس سے کدھر گئے ہم

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…