تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

Toggle stanza 1
تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
1

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

لیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہے

2

سودائی دل کو زلف گرہ گیر شرط ہے

دیوانے کے علاج میں زنجیر شرط ہے

3

نالے تو میں بہت کئے اس بت کے سامنے

پتھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے

4

ہو خاک راہ عشق میں تا قدر ہو تری

مس کے طلا بنانے کو اکسیر شرط ہے

5

کافی ہے اک اشارۂ ابرو ترا ہمیں

کچھ عاشقوں کے قتل کو شمشیر شرط ہے

6

دل کی شکست و ریخت کی میرے تو لے خبر

ہر گھر کی دیر پائی کو تعمیر شرط ہے

7

کرتا ہے کس گنہ پہ عقوبت ہمیں تو یار

تعزیر کے تو واسطے تقصیر شرط ہے

8

سوداؔ میں اس چمن میں ہوں جوں غنچہ دل گرفت

ماتم سرا میں صورت دلگیر شرط ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…