تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
Toggle stanza 1تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
11
تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
لیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہے
22
سودائی دل کو زلف گرہ گیر شرط ہے
دیوانے کے علاج میں زنجیر شرط ہے
33
نالے تو میں بہت کئے اس بت کے سامنے
پتھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے
44
ہو خاک راہ عشق میں تا قدر ہو تری
مس کے طلا بنانے کو اکسیر شرط ہے
55
کافی ہے اک اشارۂ ابرو ترا ہمیں
کچھ عاشقوں کے قتل کو شمشیر شرط ہے
66
دل کی شکست و ریخت کی میرے تو لے خبر
ہر گھر کی دیر پائی کو تعمیر شرط ہے
77
کرتا ہے کس گنہ پہ عقوبت ہمیں تو یار
تعزیر کے تو واسطے تقصیر شرط ہے
88
سوداؔ میں اس چمن میں ہوں جوں غنچہ دل گرفت
ماتم سرا میں صورت دلگیر شرط ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

