دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
Toggle stanza 1دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
11
دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جی ہے تو جہاں ہے
22
ہر ایک کے دکھ درد کا اب ذکر و بیاں ہے
مجھ کو بھی ہو رخصت مرے بھی منہ میں زباں ہے
33
اس عشق کے ہے تو ہی سزا وار کہ ہر ایک
دل دے کے ترے نام کو جویائے نشاں ہے
44
جویندۂ ہر چیز ہے یابندہ جہاں میں
جز عمر گزشتہ کہ وہ ڈھونڈو تو کہاں ہے
55
پیری جو تو جاوے تو جوانی سے یہ کہنا
خوش رہیو مری جان تو جیدھر ہے جہاں ہے
66
پہنچا نہ کوئی مرغ کبھو اپنے چمن تک
جز طائر حسرت کہ وہ یاں بال فشاں ہے
77
تجھ سے تو کسو طرح مرا کچھ نہیں چلتا
جز خون کہ آنکھوں سے شب و روز رواں ہے
88
ساقی تو نظر کیجیو ٹک صبح چمن کو
اس پیر کے جلوے کا بھلا کوئی جواں ہے
99
سوداؔ کا ترے دشت میں طفلاں سے ہے یہ حال
جیدھر وہ کھڑا ہووے تو جوں سنگ نشاں ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

