دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے

Toggle stanza 1
دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
1

دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے

ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جی ہے تو جہاں ہے

2

ہر ایک کے دکھ درد کا اب ذکر و بیاں ہے

مجھ کو بھی ہو رخصت مرے بھی منہ میں زباں ہے

3

اس عشق کے ہے تو ہی سزا وار کہ ہر ایک

دل دے کے ترے نام کو جویائے نشاں ہے

4

جویندۂ ہر چیز ہے یابندہ جہاں میں

جز عمر گزشتہ کہ وہ ڈھونڈو تو کہاں ہے

5

پیری جو تو جاوے تو جوانی سے یہ کہنا

خوش رہیو مری جان تو جیدھر ہے جہاں ہے

6

پہنچا نہ کوئی مرغ کبھو اپنے چمن تک

جز طائر حسرت کہ وہ یاں بال فشاں ہے

7

تجھ سے تو کسو طرح مرا کچھ نہیں چلتا

جز خون کہ آنکھوں سے شب و روز رواں ہے

8

ساقی تو نظر کیجیو ٹک صبح چمن کو

اس پیر کے جلوے کا بھلا کوئی جواں ہے

9

سوداؔ کا ترے دشت میں طفلاں سے ہے یہ حال

جیدھر وہ کھڑا ہووے تو جوں سنگ نشاں ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…