گاندھیؔ جی کی یاد میں!

Toggle stanza 1
وہی ہے شور ہائے و ہو، وہی ہجوم مرد و زن
1

وہی ہے شور ہائے و ہو، وہی ہجوم مرد و زن

مگر وہ حسن زندگی، مگر وہ جنت وطن

2

وہی زمیں، وہیں زماں، وہی مکیں، وہی مکاں

مگر سرور یک دلی، مگر نشاط انجمن

3

وہی ہے شوق نو بہ نو، وہی جمال رنگ رنگ

مگر وہ عصمت نظر، طہارت لب و دہن

4

ترقیوں پہ گرچہ ہیں، تمدن و معاشرت

مگر وہ حسن سادگی، وہ سادگی کا بانکپن

5

شراب نو کی مستیاں، کہ الحفیظ و الاماں

مگر وہ اک لطیف سا سرور بادۂ کہن

6

یہ نغمۂ حیات ہے کہ ہے اجل ترانہ سنج

یہ دور کائنات ہے کہ رقص میں ہے اہرمن

7

ہزار در ہزار ہیں اگرچہ رہبران ملک

مگر وہ پیر نوجواں، وہ ایک مرد صف شکن

8

وہی مہاتما وہی شہید امن و آشتی

پریم جس کی زندگی، خلوص جس کا پیرہن

9

وہی ستارے ہیں، مگر کہاں وہ ماہتاب ہند

وہی ہے انجمن، مگر کہاں وہ صدر انجمن

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…