Stanza 1
Toggle stanza 1
خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں
1

خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں

2

اجالا زمانہ میں پھیلا رہی ہوں

3

بہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں

4

پکارے گلے صاف چلا رہی ہوں

5

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 2
Toggle stanza 2
میں سب کار بہوار کے ساتھ آئی
6

میں سب کار بہوار کے ساتھ آئی

7

میں رفتار و گفتار کے ساتھ آئی

8

میں باجوں کی جھنکار کے ساتھ آئی

9

میں چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آئی

10

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 3
Toggle stanza 3
اذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے
11

اذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے

12

خوشی سے ہر اک جانور بولتا ہے

13

درختوں کے اوپر عجب چہچہا ہے

14

سہانا ہے وقت اور ٹھنڈی ہوا ہے

15

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 4
Toggle stanza 4
یہ چڑیاں جو پیڑوں پہ ہیں غل مچاتی
16

یہ چڑیاں جو پیڑوں پہ ہیں غل مچاتی

17

ادھر سے ادھر اڑ کے ہیں آتی جاتی

18

دموں کو ہلاتی پروں کو پھلاتی

19

میری آمد آمد کے ہیں گیت گاتی

20

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 5
Toggle stanza 5
جو طوطے نے باغوں میں ٹیں ٹیں مچائی
21

جو طوطے نے باغوں میں ٹیں ٹیں مچائی

22

تو بلبل بھی گلشن میں ہے چہچہائی

23

اور اونچی منڈیروں پہ شاما بھی گائی

24

میں سو سو طرح سے دی رہی ہوں دہائی

25

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 6
Toggle stanza 6
ہر ایک باغ کو میں نے مہکا دیا ہے
26

ہر ایک باغ کو میں نے مہکا دیا ہے

27

نسیم اور صبا کو بھی لہکا دیا ہے

28

چمن سرخ پھولوں سے دہکا دیا ہے

29

مگر نیند نے تم کو بہکا دیا ہے

30

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 7
Toggle stanza 7
ہوئی مجھ سے رونق پہاڑ اور بن میں
31

ہوئی مجھ سے رونق پہاڑ اور بن میں

32

ہر ایک ملک میں دیس میں ہر وطن میں

33

کھلاتی ہوئی پھول آئی چمن میں

34

بجھاتی چلی شمع کو انجمن میں

35

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 8
Toggle stanza 8
جو اس وقت جنگل میں بوٹی جڑی ہے
36

جو اس وقت جنگل میں بوٹی جڑی ہے

37

سو وہ نولکھا ہار پہنے کھڑی ہے

38

کہ پچھلے کی ٹھنڈک سے شبنم پڑی ہے

39

عجب یہ سماں ہے عجب یہ گھڑی ہے

40

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 9
Toggle stanza 9
ہرن چونک اٹھے چوکڑی بھر رہے ہیں
41

ہرن چونک اٹھے چوکڑی بھر رہے ہیں

42

کلولیں ہرے کھیت میں کر رہے ہیں

43

ندی کے کنارے کھڑے چر رہے ہیں

44

غرض میرے جلوہ پہ سب مر رہے ہیں

45

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 10
Toggle stanza 10
میں تاروں کی چھاں آن پہونچی یہاں تک
46

میں تاروں کی چھاں آن پہونچی یہاں تک

47

زمیں سے ہے جلوہ مرا آسماں تک

48

مجھے پاؤ گے دیکھتے ہو جہاں تک

49

کرو گے بھلا کاہلی تم کہاں تک

50

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 11
Toggle stanza 11
پجاری کو مندر کے میں نے جگایا
51

پجاری کو مندر کے میں نے جگایا

52

موذن کو مسجد کے میں نے اٹھایا

53

بھٹکتے مسافر کو رستہ بتایا

54

اندھیرا گھٹایا۔ اجالا بڑھایا

55

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 12
Toggle stanza 12
لدے قافلوں کے بھی منزل میں ڈیرے
56

لدے قافلوں کے بھی منزل میں ڈیرے

57

کسانوں کے ہل چل پڑے منہ سویرے

58

چلے جال کندھے پہ لے کر مچھیرے

59

دلدر ہوئے دور آنے سے میرے

60

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 13
Toggle stanza 13
بگل اور طنبور سنکھ اور نوبت
61

بگل اور طنبور سنکھ اور نوبت

62

بجانے لگے اپنی اپنی سبھی گت

63

چلی توپ بھی دن سے حضرت سلامت

64

نہیں خوب غفلت۔ نہیں خوب غفلت

65

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 14
Toggle stanza 14
لو ہشیار ہو جاؤ اور آنکھ کھولو
66

لو ہشیار ہو جاؤ اور آنکھ کھولو

67

نہ لو کروٹیں اور نہ بستر ٹٹولو

68

خدا کو کرو یاد اور منہ سے بولو

69

بس اب خیر سے اٹھ کے منہ ہاتھ دھو لو

70

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 15
Toggle stanza 15
بڑی دھوم سے آئی میری سواری
71

بڑی دھوم سے آئی میری سواری

72

جہاں میں ہوا اب میرا حکم جاری

73

ستارے چھپے رات اندھیری سدھاری

74

دکھائی دئے باغ اور کھیت کیاری

75

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Stanza 16
Toggle stanza 16
میں پورب سے پچھم پہ کرتی ہوں دھاوا
76

میں پورب سے پچھم پہ کرتی ہوں دھاوا

77

زمیں کے کرہ پر لگاتی ہوں کاوا

78

میں طے کر کے آئی ہوں چین اور جاوہ

79

نہیں کہتی کچھ تم سے اس کے علاوہ

80

اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…