ابر بادل ہے اور سحاب گھٹا
Poet: Ismail Meeruthi
Toggle stanza 1ابر بادل ہے اور سحاب گھٹا
ابر بادل ہے اور سحاب گھٹا
جس کی ہم دیکھتے ہیں آج بہار
کس کو باراں نے تازگی بخشی
زرع کھیتی ہے اور درخت اشجار
کون سی جا ہے سیر کے قابل
باغ روضہ حدیقہ اور گلزار
اب غریبوں کو ہو گئی تسکیں
جو کہ لیتے تھے قرض و وام ادھار
قحط ہے کال اور گدائی بھیک
جس کے مینہ نے مٹا دئیے آثار
جو ندی آب گیر ہے تالاب
مینہ جو برسا تو بھر گئے یک بار
نرخ ہے بھاؤ اور غلہ اناج
سستا ارزاں ہے سوق ہے بازار
مردم و آدمی بشر انسان
فضل باری کے سب ہیں شکر گزار
ہیں کشاورز کاشت کار کسان
خشک سالی سے تھے بہت ناچار
مینہ برستا رہا کئی دن رات
روز و شب صبح و شام لیل و نہار
قطرہ ہے بوند اور مینہ باراں
آب پانی ہے اور بہت بسیار
بوندا باندی یہی ترشح ہے
جیسے ہے آج ننھی ننھی پھوار
کالی کالی گھٹا ہے ابر سیاہ
جو کہ برسا رہی ہے یہ بوچھار
سایہ ہے چھاؤں آفتاب ہے دھوپ
دیکھ آج دھوپ چھاؤں کی یہ بہار
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

