قوس قزح
Toggle stanza 1تھی شام قریب اور دہقاں
11
تھی شام قریب اور دہقاں
میداں میں تھا گلے کا نگہباں
22
دیکھی اس نے کمان ناگاہ
جو کرتی ہے مینہ سے ہم کو آگاہ
33
رنگت میں اسے عجیب پایا
ظاہر میں بہت قریب پایا
44
پہلے سے وہ سن چکا تھا اکثر
ہے قوس میں اک پیالۂ زر
55
مشہور بہت ہے یہ کہانی
افسانہ تراش کی زبانی
66
ملتی ہے جہاں کماں زمیں سے
ملتا ہے وہ جام زر وہیں سے
77
سوچا لو جام اور بنو جم
چھوڑو بزو گو سفند کا غم
88
بیہودہ گنوار اس گماں پر
سیدھا گیا تیر سا کماں پر
99
دن گھٹنے لگا قدم بڑھایا
امید کہ اب خزانہ پایا
1010
جتنی کوشش زیادہ تر کی
اتنی ہی کماں پرے کو سرکی
1111
پنہاں ہوئی قوس آخر کار
اور ظلمت شب ہوئی نمودار
1212
ناکام پھر وہ سادہ دہقاں
حسرت زدہ غم زدہ پشیماں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

