گرمی کا موسم
Toggle stanza 1مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ
11
مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ
بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینا
22
بجے بارہ تو سورج سر پہ آیا
ہوا پیروں تلے پوشیدہ سایا
33
چلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپ
لپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپ
44
زمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہے
کوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہے
55
در و دیوار ہیں گرمی سے تپتے
بنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتے
66
پرندے اڑ کے ہیں پانی پہ گرتے
چرندے بھی ہیں گھبرائے سے پھرتے
77
درندے چھپ گئے ہیں جھاڑیوں میں
مگر ڈوبے پڑے ہیں کھاڑیوں میں
88
نہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کی
زمیں کا فرش ہے چھت آسماں کی
99
نہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہ
ذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہ
1010
امیروں کو مبارک ہو حویلی
غریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

