ایک بچہ اور جگنو کی باتیں
Toggle stanza 1سناؤں تمہیں بات اک رات کی
سناؤں تمہیں بات اک رات کی
کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی
چمکنے سے جگنو کے تھا اک سماں
ہوا پر اڑیں جیسے چنگاریاں
پڑی ایک بچہ کی ان پہ نظر
پکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر
چمکدار کیڑا جو بھایا اسے
تو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپایا اسے
وہ جھم جھم چمکتا ادھر سے ادھر
پھرا کوئی رستہ نہ پایا مگر
تو غمگین قیدی نے کی التجا
اے چھوٹے شکاری مجھے کر رہا
Toggle stanza 2خدا کے لئے چھوڑ دے چھوڑ دے
خدا کے لئے چھوڑ دے چھوڑ دے
مری قید کے جال کو توڑ دے
Toggle stanza 3کروں گا نہ آزاد اس وقت تک
کروں گا نہ آزاد اس وقت تک
کہ میں دیکھ لوں دن میں تیری چمک
Toggle stanza 4چمک میری دن میں نہ دیکھو گے تم
چمک میری دن میں نہ دیکھو گے تم
اجالے میں ہو جائے گی وہ تو گم
Toggle stanza 5ارے چھوٹے کیڑے نہ دے دم مجھے
ارے چھوٹے کیڑے نہ دے دم مجھے
کہ ہے واقفیت ابھی کم تجھے
اجالے میں دن کے کھلے گا حال
کہ اتنے سے کیڑے میں کیا ہے کمال
دھواں ہے نہ شعلہ نہ گرمی نہ آنچ
چمکنے کی تیرے کروں گا میں جانچ
Toggle stanza 6یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب
یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب
کہ ذرہ کو چمکائے جوں آفتاب
مجھے دی ہے اس واسطے یہ چمک
کہ تم دیکھ کر مجھ کو جاؤ ٹھٹک
نہ الھڑ پنے سے کرو پائمال
سنبھل کر چلو آدمی کی سی چال
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

