ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں یوں جیسے کنہیا

Toggle stanza 1
ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں یوں جیسے کنہیا
1

ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں یوں جیسے کنہیا

سو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ اور آنکھوں میں پنگھٹ

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…