گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں

Toggle stanza 1
گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں
1

گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں

وہ ہیں اٹھ جاتے ہیں یہ اور ستم کرتے ہیں

2

جی نہ لگ جائے کہیں تجھ سے اسی واسطے بس

رفتہ رفتہ ترے ہم ملنے کو کم کرتے ہیں

3

واقعی یوں تو ذرا دیکھیو سبحان اللہ

تیرے دکھلانے کو ہم چشم یہ نم کرتے ہیں

4

عشق میں شرم کہاں ناصح مشفق یہ بجا

آپ کو کیا ہے جو اس بات کا غم کرتے ہیں

5

گالیاں کھانے کو اس شوخ سے ملتے ہیں ہاں

کوئی کرتا نہیں جو کام سو ہم کرتے ہیں

6

ہیں طلب گار محبت کے میاں جو اشخاص

وہ بھلا کب طلب دام و درم کرتے ہیں

7

عین مستی میں ہمیں دید فنا ہے انشاؔ

آنکھ جب موندتے ہیں سیر عدم کرتے ہیں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…