جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا

Toggle stanza 1
جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا
1

جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا

تو سلفے کا اور اس کو کوڑا لگا

2

مرے ہی جو بازو میں اک نیل سا

سو تیرے ہے پاؤں کا توڑا لگا

3

اجی چشم بد دور نام خدا

تمہیں کیا بھلا سرخ جوڑا لگا

4

بھلا آپ شرمائے کس واسطے

کبوتر کا باہم جو جوڑا لگا

5

یہ دکھتی نگاہوں سے گھورا مجھے

کہ دکھنے مرے دل کا پھوڑا لگا

6

لگی کہنے انشاؔ کو شب وہ پری

مجھے بھوت ہو یہ نگوڑا لگا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…